تختہ ٔ مشقِ جفائے کج اَدا میں ہی تو ہوں
َگردِ رَہوارِ عتابِ دِلرُبا میں ہی تو ہوں
قصہ اُن کے ستم کا کہتے ہیں
اَشکِ خوں آنکھ سے جو بہتے ہیں
ہم اُٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دِیدار پہ حَلْف
جان دینے کے لیے اَبروئے خمدار پہ حَلْف
تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ اُمید
حسرتِ دِید تماشائے نگاہِ اُمید
ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا
مشتاق دِل و جاں سے ہوں دَرد کا غم کا