Ghazal
Hai kaun jo shaiq ho meri tarah sitam ka
ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا
Urdu Kalam
مطلع
ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا
مشتاق دِل و جاں سے ہوں دَرد کا غم کا
یکتا ہوں وہ غمگیں کہ کہیں جز مرے گھر کے
ڈھونڈو تو پتا تک نہ ملے رَنج و اَلم کا
اب شوق یہ کہتا ہے وہاں پہلے ہی پہنچے
کاغذ سے بھی آگے ہو قدم نقشِ رقم کا
اور رَشک یہ کہتا ہے کوئی دیکھے نہ َمضموں
کاغذ پہ نشاں بھی نہ رہے نقشِ رقم کا
وہ اپنا جفا کاری میں ثانی نہیں رکھتے
معلوم نہیں کس سے لیا دَرْس ستم کا
وعدے تو وہ کرلیتے ہیں اِیفا نہیں کرتے
کچھ پاس نہ وعدے کا انہیں ہے نہ قسم کا
اے کاش کوئی اس بتِ طَنَّاز سے کہتا
ہے چاہنے والا تیرا مہماں کوئی دَم کا
دُزْدِیدہ نگاہوں سے مجھے آپ نے دیکھا
ممنون ہوں میں آپ کے اس لطف کرم کا
مقطع
سنتے ہیں نعیمؔ آتے ہیں وہ بہرِ ِعیادَت
کیا آج ستارہ مری تقدیر کا چمکا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzuf
Radif
ا
Total Ashaar
9
Total Misra
18
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem
Category
Ghazal