Ghazal
Takte rehte hain ajab tarah se raah-e-umeed
تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ امید
Urdu Kalam
مطلع
تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ اُمید
حسرتِ دِید تماشائے نگاہِ اُمید
بند کس واسطے کی آپ نے راہِ امید
یہ تو فرمائیے کیا دیکھا گناہِ امید
بے نیازی نے تری مار ہی ڈالا ہوتا
خیر سے بچ گئے ہم پا کے پناہِ امید
روزِ غم بھی ہیں شبِ ہجر کی صورت تاریک
ہیں خوش آئند مگر شام و پگاہِ امید
ہم سے کھنچتے ہو مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کبھی
کھینچ ہی لائے گی حضرت کو سپاہِ امید
آپ اتنا تو سمجھئے کہ لگی رہتی ہے
آپ کے لطف پہ سرکار نگاہِ امید
مقطع
آپ جاتے ہیں مرے گھر سے تو یہ یاد رہے
چھوڑ کر آئے ہیں منعمؔ کو تباہِ امید
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal
Radif
د
Total Ashaar
7
Total Misra
14
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem
Category
Ghazal