Rubaiyat
Jaan-e-Gulzar-e-Mustafai tum ho
رباعیات
Urdu Kalam
مطلع
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو
جلوہ سے تمہارے ہے عیاں شانِ خدا
آئینۂ ذاتِ کبریائی تم ہو
دیگر
یارانِ نبی کا وَصف کس سے ہو ادا
ایک ایک ہے ان میں ناظمِ نظمِ ہُدیٰ
پائے کوئی کیونکر اس رُباعی کا جواب
اے اہل سخن جس کا مصنف ہو خدا
دیگر
بدکار ہیں عاصی ہیں زیاں کار ہیں ہم
تعزیر کے بے شبہ سزاوار ہیں ہم
یہ سب سہی پر دل کو ہے اس سے قوت
اللہ کریم ہے گنہگار ہیں ہم
دیگر
خاطی ہوں سیہ ُرو ہوں خطاکار ہوں میں
جو کچھ ہو حسنؔ سب کا سزاوار ہوں میں
پر اس کے کرم پر ہے بھروسہ بھاری
اللہ ہے شاہد کہ گنہ گار ہوں میں
دیگر
اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام
ہیں جس سے ضعیف سب قوائے اسلام
اے مرتوں کی جان کے بچانے والے
اب ہے تِرے ہاتھ میں دوائے اسلام
دیگر
کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام
کب تک رہے ضعف جاں گذائے اسلام
پھر ازسر نو اس کو توانا کر دے
اے حامیٔ اسلام خدائے اسلام
دیگر
ہے شام قریب چھپی جاتی ہے ضو
منزل ہے بعید تھک گیا رَہرو
اب تیری طرف شکستہ حالوں کے رفیق
ٹوٹی ہوئی آس نے لگائی ہے لو
دیگر
برسائے وہ آزادہ رَوِی نے جھالے
ہر راہ میں بہہ رہے ہیں ندی نالے
اسلام کے بیڑے کو سہارا دینا
اے ڈوبتوں کے پار لگانے والے
دیگر
سن اَحقر افرادِ زمن کی فریاد
سن بندۂ پابندِ محن کی فریاد
یارب تجھے واسطہ خداوندی کا
رہ جائے نہ بے اثر حسن کی فریاد
دیگر
جو لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے
کیوں اَہلِ خطا کی ہیں حقارت کرتے
بندے جو گنہگار ہیں وہ کس کے ہیں
کچھ دیر اُسے ہوتی ہے رحمت کرتے
دیگر
دنیا فانی ہے اہل دنیا فانی
شہر و بازار و کوہ و صحرا فانی
دل شاد کریں کس کے نظارہ سے حسنؔ
آنکھیں فانی ہیں یہ تماشا فانی
دیگر
اس گھر میں نہ پابند نہ آزاد رہے
غمگین رہے کوئی نہ دِل شاد رہے
تعمیر مکاں کس کے لیے ہوتا ہے
مقطع
کوئی نہ یہاں رہے گا یہ یاد رہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musaddas Mahzoof
Radif
و
Total Ashaar
12
Total Misra
59
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat