Hamd
Sair dil ki jise muyassar hai
سیر دل کی جسے میسر ہے
Urdu Kalam
مطلع
سیر دل کی جسے مَیَسَّر ہے
عیشِ دنیا اسے مُکَدَّر ہے
اس کے نزدیک زینتِ عالم
خس و خاشاک سے بھی کمتر ہے
اصل نعمت بقا ہے لیکن وہ
کون سی چیز کو مَیَسَّر ہے
کون سی چیز کو زوال نہیں
نیستی سب کی یاں مقدر ہے
ہے تغیر میں روز ماہِ منیر
اسی چکر میں مہرِ خاوَر ہے
نقش بر آب کی طرح ہیں وجود
بے ثباتی ہر ایک کی اَظہر ہے
سب حقیقت میں نقشِ باطل ہیں
جاہ ہے یا حکومت و زَر ہے
دل کی دنیا عجیب دنیا ہے
راز ہستی کا اس میں ُمضمر ہے
دل کو خالی کرو ُکدورت سے
جلوہ گاہِ جنابِ داوَر ہے
سارے عالم میں جو سما نہ سکے
جلوہ فرما وہ دل کے اندر ہے
تم اسے ڈھونڈنے چلے ہو کہاں
دلِ بے غِل ہی یار کا گھر ہے
پرتوِ حُسنِ لم یزل پہ مٹو
جس سے مومن کا دِل منور ہے
ظل کو لے کر نہ اصل کو چھوڑو
سایہ بے اصل نامصور ہے
ظل کو ظل جان کر کرو توقیر
کیونکہ یہ بھی اسی کا مظہر ہے
مقطع
رازِ وَحدت کھلے نعیمؔ الدیں
اَشرفی کا یہ فیض تجھ پر ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Khafeef Musaddas Makhboon Mahzoof
Radif
ے
Total Ashaar
15
Total Misra
30
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem