Naat
Andheri raat hai gham ki ghata isyan ki kaali hai
اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
Urdu Kalam
مطلع
اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے
نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے
نبی اُمّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے
اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے
ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے
اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں
مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے
نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی
ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے
مقطع
رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے
تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Radif
ے
Total Ashaar
8
Total Misra
16
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish
Category
Naat