Hamd
Atain puchiye sarkar ki mohtaj sail se
عطائیں پوچھئے سرکار کی محتاج سائل سے
Urdu Kalam
مطلع
عطائیں پوچھئے سرکار کی محتاج سائل سے
اٹھائے ہوں جنہوں نے فیض ان کے بحرِ ساحل سے
مَذاقِ دل ہے شیریں کام ان شیریں خصائل سے
مشامِ جاں ہوا ہے مست اس ُگل کے شمائل سے
امام اعظم و محبوبِ سبحانی شہِ سمناں
پہنچتے ہیں نبی تک ہم انہی اعلیٰ وسائل سے
وہ روئے حق نما مظہر ہے حُسنِ بے مثالی کا
جمال ان کا منزہ ہے مقابل سے مماثل سے
سراپا نور ہیں وہ نورِ حق نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ
کَمِشْکٰوۃٍہے شان ان کی انہیں کیا واسطہ ظل سے
بِفَضْلِ اللّٰہ نابینا نہیں ہوں کیسے دُوں نسبت
کفِ پائے حبیبِ حق کو رُوئے ماہِ کامل سے
دلیلِ قدرتِ حق ہے مرا ہونا فنا ہونا
شہادت اپنی دِلوا لیتے ہیں وہ حق و باطل سے
جنابِ شیخ آئیں خدمتِ پیرِ طریقت میں
یہ عقدے حل نہیں ہوسکتے منطق کے مسائل سے
نگاہِ لطف لِلّٰہ اے قرارِ خاطرِ مضطر
کہ اب تو آگیا ہوں تنگ میں بے تابیِ دل سے
غرض کیا ہم کو بلبل سے اور اس کے گرم نالوں سے
نہیں گر دَردِ دل میں فائدہ ذِکرِ عنادِل سے
مقطع
ہر اِک شاہ و گدا کو جن کے دَر سے ملتا ہے صدقہ
نعیم ؔالدیں بھی سائل ہے اسی دربارِ باذِل سے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Radif
ے
Total Ashaar
11
Total Misra
22
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem