Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب اور قمر ابھی

ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے

لُٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یُوں ہی سُنا کیے

آبِ حیات رُوح ہے زرقاکی بُوند بُوند

کِس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفا

گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے

شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے

لے طوقِ اَلم سے اَب آزاد ہو اے قُمری

نامہ سے رضاؔ کے اَب مٹ جاؤ بُرے کامو

نامہ سے رضاؔ کے اَب مٹ جاؤ بُرے کامو

بدکار رضاؔ خوش ہو بدکام بھلے ہوں گے

جلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی

طیبہ سے ہم آتے ہیں کہیے تو جناں والو

لے طوقِ اَلم سے اَب آزاد ہو اے قُمری

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور

کچھ نعت کے طبقے کا عَالم ہی نرالا ہے

جلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

جب بامِ تجَلّی پر وہ نیّرِ جاں آیا

جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا

جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا

اس گل کے سوا ہر پھول باگوش گراں آیا

تیری دوزخ سے تو کچھ چھینا نہیں

دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض

نَجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی

دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیاکریں

دشتِ گِرد و پیشِ طَیبہ کا ادب

دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب

لَا یَعُوْدُوْنْ آگے ہو گا بھی نہیں

ان کے نامِ پاک پر دل جان و مال

یٰعِبَادِی کہہ کے ہم کو شاہ نے

بے خودی میں سجدۂ در یا طواف

ان کو تَمْلِیک مَلِیْکُ الْمُلْکْ سے

بیٹھتے اُٹھتے مدد کے واسطے

یا غَرض سے چھٹ کے محض ذکر کو

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

کہدو رضا ؔسے خوش ہو خوش رہ

جن کے چھپر تک نہیں اون کے

ٹوپی جن کے نہ جوتی ان کو

جس کو کوئی نہ کھلوا سکتا

سَلِّم سَلِّم کی ڈَھارس سے

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا

ننگوں بے ننگوں کا پردہ

اپنے بھرم سے ہم ہلکوں کا

سنکھوں بیکس رونے والے

خود سجدے میں گر کر اپنی

ماں جب اکلوتے کو چھوڑے