Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور

جب بامِ تجَلّی پر وہ نیّرِ جاں آیا

جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا

جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

اس گل کے سوا ہر پھول باگوش گراں آیا

تیری دوزخ سے تو کچھ چھینا نہیں

دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض

نَجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی

دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیاکریں

دشتِ گِرد و پیشِ طَیبہ کا ادب

دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب

لَا یَعُوْدُوْنْ آگے ہو گا بھی نہیں

ان کے نامِ پاک پر دل جان و مال

یٰعِبَادِی کہہ کے ہم کو شاہ نے

بے خودی میں سجدۂ در یا طواف

ان کو تَمْلِیک مَلِیْکُ الْمُلْکْ سے

بیٹھتے اُٹھتے مدد کے واسطے

یا غَرض سے چھٹ کے محض ذکر کو

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

کہدو رضا ؔسے خوش ہو خوش رہ

جن کے چھپر تک نہیں اون کے

ٹوپی جن کے نہ جوتی ان کو

جس کو کوئی نہ کھلوا سکتا

سَلِّم سَلِّم کی ڈَھارس سے

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا

ننگوں بے ننگوں کا پردہ

اپنے بھرم سے ہم ہلکوں کا

سنکھوں بیکس رونے والے

خود سجدے میں گر کر اپنی

ماں جب اکلوتے کو چھوڑے

مرقد میں بندوں کو تھپک کر

باپ جہاں بیٹے سے بھاگے

بندے کرتے ہیں کام غضب کے

نزع رُوح میں آسانی دیں

لاکھوں بلائیں کروڑوں دشمن

ماتم گھر میں ایک نظر میں

اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر

رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم

قادِرِ کُل کے نائب اَکبر

ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے

ان کا حکم جہاں میں نافذ

ان کے نام کے صدقے جس سے

اس کی بخشش ان کا صدقہ

دافع یعنی حافظ و حامی

فیض جلیل خلیل سے پوچھو

شافع نافع رافع دافع

شافع اُمت نافع خَلْقَت

قصرِ دَنیٰ تک کس کی رَسائی