Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

اس کے نائب ان کے صاحب

جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں

ٹوٹی آسیں بندھاتے یہ ہیں

ڈوبی ناویں تراتے یہ ہیں

سچی بات سکھاتے یہ ہیں

اِلتجا اس شرک و شر سے دور رکھ

جس طرح ہونٹ اِس غزل سے دور ہیں

تو نہ تھا تو کچھ نہ تھا گر تو نہ ہو

تو ہو داتا اور اَوروں سے رَجَا

ا للّٰہ ا للّٰہ یاس اور ایسی آس سے

تو ثنا کو ہے ثنا تیرے لئے

دل دے دل کو جان جاں کو نور دے

آنکھ دے اور آنکھ کو دِیدارِ نور

ہر حکایت ہر کنایت ہر اَدا

کُل سے اَعلیٰ کُل سے اَوْلیٰ کُل کی جاں

دلکشا دلکش دِل آرا دلستاں

سیّد کونین سلطانِ جہاں

مَطْلَع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضاؔ واللہ

طیبہ نہ سہی اَفضل مَکّہ ہی بڑا زاہِد

حرص و ہوسِ بَد سے دل تُو بھی سِتَم کر لے

ہم دِل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پر کالے

اب آپ ہی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں

اے عشق تِرے صَدقے جلنے سے چُھٹے سَستے

مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈَھک دو

بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا

گرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گِرے مولیٰ

اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ

یُوں تو سب اُنہیں کا ہے پَر دل کی اگر پوچھو

زائر گئے بھی کب کے دِن ڈَھلنے پہ ہے پیارے

مچلا ہے کہ رحمت نے اُمید بندھائی ہے

سب نے صف محشر میں لَلکار دیا ہم کو

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے

وہ تو نہایت سَستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا

شہد دکھائے زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سُورج ہو

دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ

ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں

پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اَوندھے مُنھ

جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دِل دھڑکے

بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے

آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی اَنگڑائی

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا

سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سَونا زہر ہے اُٹھ پیارے

آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

جس نے مُردہ دِلوں کو دی عمر اَبد

غمزدوں کو رضاؔ مژدہ دیجے کہ ہے

سب چمک والے اُجلوں میں چمکا کیے