Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

تابِ حُسنِ گرم سے کھل جائیں گے دل کے کَنول

سُرمَگیں آنکھیں حَریمِ حق کے وہ مُشکِیں غَزال

یہ جو مِہر و مَہ پہ ہے اِطلاق آتا نور کا

وضْعِ واضع میں تِری صورت ہے معنی نور کا

اَنبیا اَجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا

نَزع میں لوٹے گا خاکِ در پہ شیدا نور کا

تابِ مِہرِ حشر سے چونکے نہ کُشْتہ نور کا

آنکھ مِل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا

تم مُقابِل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا

قبرِ انور کہیے یا قصرِ مُعلّٰے نور کا

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا

اب کہاں وہ تابِشیں کیسا وہ تڑکا نور کا

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا

شمع ساں ایک ایک پروانہ ہے اس با نور کا

اَنجمن والے ہیں اَنجم بَزم حلقہ نور کا

یاں بھی داغِ سجدۂ طَیبہ ہے تَمغا نور کا

بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا

دیکھ ان کے ہوتے نازیبا ہے دعویٰ نور کا

نَسْخ اَدیاں کر کے خود قبضہ بٹھایا نور کا

جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا

پڑتی ہے نوری بھرن امڈا ہے دریا نور کا

ناریوں کا دور تھا دل جل رہا تھا نور کا

صبح کر دی کفر کی سچا تھا مُژدہ نور کا

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا

تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا

یہ کتابِ کُن میں آیا طُرفہ آیَہ نور کا

پُشت پر ڈَھلکا سرِ انور سے شَمْلَہ نور کا

بزمِ وَحْدَت میں مزا ہو گا دوبالا نور کا

میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا

وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا

کیا بَنا نامِ خدا اَسرا کا دولہا نور کا

تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا

تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا

عرش بھی فِردوس بھی اس شاہِ والا نور کا

تو ہے سایہ نور کا ہر عُضْو ٹکڑا نور کا

آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا

بارہویں کے چاند کا مُجرا ہے سجدہ نور کا

مَیل سے کس درجہ ستھرا ہے وہ پُتلا نور کا

ان کے قَصْرِ قَدْر سے خُلْد ایک کمرہ نور کا

باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا

شمع دل مِشکوٰۃ تن سینہ زُجا جَہ نور کا

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

ہیبت عارض سے تھراتا ہے شعلہ نور کا

پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لَمْعَہ نور کا

آکچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں اے رضاؔ

یاربّ رضا نہ احمد پارینہ ہو کے جائے

توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بد

دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہو گی آب

دشتِ حرم میں رہنے دے صیّاد اگر تجھے