Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

مناظر تجلّی کے ہیں کچھ عجب سے

منوّر زمیں ہوگی ماہِ عرب سے

سراپا تجّلی مجسَّم عنات

بہ صدر رفعت و رحمت و رُشد و رافت

سحر دم یہ کرتی ہیں کرنیں اشارے

شہنشاہؐ کون و مکاں آرہے ہیں

ستاروں میں ، غنچوں میں، گُل میں، گُہَر میں

مٹانے کو ہر شر لباسِ بشر میں

بُجھے کفر و الحاد کے سب شرارے

بصد عظمت و عزّ و شاں آرہے ہیں

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں

ادب! سرورِ مُرسَلاں آرہے ہیں

ہمیں تو نظمی سکھایا یہی بزرگوں نے

یہ عید عیدوں سے بڑھ کر ہے باالیقیں نظمی

شبِ ولادتِ احمد کی صبح کیا کہیے

شفیعِ روزِ جزا جن کا وصف اقدس ہے

وہ رت جگے وہ نوافل، درود اور سلام

ابو لہب کو سزا میں کمی ملے اس دن

وہ صبح جب کہ حبیب خدا ہوئے پیدا

خدا کے فضل سے ہم سنیوں کو پیاری ہے

جلیں وہ جن کے مقدر میں آگ لکھی ہے

یہ روز و شب یہ مہ و سال جن کا صدقہ ہیں

خدا کا فضل ہے رحمت ہے بارھویں تاریخ

جو فروزاں رہیں گی رہِ زیست میں

تھا سفینہ معیشت کا گرداب میں

صر صرِ غم نے مرجھا دیا تھا جنھیں

بیکسوں پر کُھلے بابِ لطف و کرم

ختم ادوار تثلیت و کثرت ہوئے

معصیت کے عذابِ المناک سے

سکہّ حق چلانے حضور آگئے

اُٹھا کر اُنگلیاں کہتی ہیں موجیں بحرِ رحمت کی

کرے فریاد امیرِؔ بــــے زباں اے داد رس کس سے

ہے آمد آمد اُن کی جن کــے سودائی محبت میں

وہ آتے ہیں کہ جن کی نرگسی آنکھوں کے سودائی

عجب رنگین نشاط افزا چمن ہے حُسنِ حضرت کا

قدم لیں دوڑ کـر قدسی تو حاصل ہو سر افرازی

ستاروں سے کہو آنکھیں بچھائیں اُن کی آمد ہے

طلب معشوق کی عاشق نے کی ہے بھیج کر خلعت

فرشتوں میــــں ہــــے ہنگامہ رسولِؐ پاک آتے ہیں

فیضِ رضا کا ہے سب کمال، مرحبا

یا حبیب اللہ مرحبا مرحبا

پڑھنے لگا جب عبید ان کی نعتیں

یاد آئینگے وہ ہر سال، مرحبا

جشن ولادت مناتے رہیں گے

پھیلائے دامن کھرے ہیں بھکاری

جام شہادت پیا ہے جنہوں نے

صدقہ ولادت کا جلوہ دکھا دو

دکھلا دو اپنا اب جمال، مرحبا

دیکھو ذرا مسکرانے لگے ہیں

لاریب نبیوں کے سالار آئے