Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

آپ ہی کی ذات سے، ذاتِ خدا کا ہے ظہور ہے

بزم میلادِ نبیﷺ ہے، ہر مسلماں شاد ہے

آنکھ میں روضہ، زباں پر نام، دل میں یاد ہے

آئو اُسی رسول ﷺ کے دامن کو تھام لیں

آئو اُسی رسول ﷺ سے لے کر چراغِ علم

اب دوسری کسی کی قیادت نہیں قبول

شکرِ خدا کے بعد مرے خوشنوا قلم!

ہر ہر افق پہ چاند ستاروں نے یہ لکھا

عرشِ بریں سے فرشِ زمیں تک قدم قدم

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے چمن زار میں، ریاضؔ

بنیاد، انقلابِ کرم کی رکھی گئی

یومِ نجات نوعِ بشر کا، یہی ہے دن

رم جھم درودِ پاک کی جاری فضا میں تھی

آئے مرے حضور ﷺ تو رُوئے زمین پر

توحید کے، زمیں پہ اتر آئے آفتاب

ارض و سما میں جشنِ ولادت کی دھوم تھی

جھوٹے خدا، خدا کی خدائی میں گم ہوئے

پھر یوں ہوا کہ ایک دن اس کائنات پر

آئے حضور ﷺ، روشنی قدموں میں گر پڑی

تشنہ زمین، لب پہ حروفِ دعا لیے

برسیں گی کب گھٹائیں کرم کی روش روش

سورج چمک رہے تھے بڑی آب و تاب سے

اُن ﷺ پر نثار کرنے ہیں سب روشنی کے پھول

میں سراپا خطا وہ سرا پا عطا میں گنہگار ہوں وہ شفیع الورا

کون ہے اس قدر محترم دیکھئے اللہ اللہ یہ حُسن ِ کرم دیکھئے

میری مشکل میں مشکل کشائی ہوئی میری رنج و محن سے رہائی ہوئی

ہم گنہگار جاتے تو جاتے کہاں مِل گئی اے خوشا انکے در پر اماں

بے نِشانوں کو اپنے نشاں مِل گئے نامرادوں کو دُونوں جہاں مِل گئے

آفتاب ِ رسالت درخشاں ہوا دُور دنیا سے سارا اندھیرا ہوا

ابرِ رحمت مسلسل برسنے لگا دِل کے پژ مُردہ غنچے مہکنے لگے

جوش میں آگئی رحمتِ کبریا ہم غریبوں کے حاجت روا آگئے

حُسن پر جن کے نازاں ہے شانِ خدا جنکے نقشِ قدم پر دو عالم فِدا

اُن کے جلووں سے نِکھرنے لگی دل کی رونق

چاند تاروں میں نصیرؔ امروز بڑی ہلچل ہے

مرحبا، صلِّ علیٰ کی ہیں صدائیں لب پر

بول بالا ہُوا حق کا تو بُتانِ باطل

رہگزر میں نظر آنے لگے ہر سُو جلوے

دل کو جلووں کی طلب، آنکھ کو طیبہ کی لگن

اُن کی آمد کے پیامی ہیں صبا کے جھونکے

اہلِ ایماں کے لبوں پر ہے دُرود اور سلام

کہکشاں، راہگزر، چاند، ستارے، ذرّے

اپنے شہکار پہ خلّاقِ دو عالَم کو ہے ناز

اہلِ دل گیت یہ گاتے ہیں کہ آپﷺ آتے ہیں

راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپﷺ آتے ہیں

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں۔

یہ صبحِ مسّرت ہے خوشیاں مناؤ

محمدؐ کے جلووں پہ قربان جاؤ

چمکنے کو ہے آج قسمت ہماری

وہ آئی، وہ آئی وہ آئی سواری

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں