Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

تشنہ زمین، لب پہ حروفِ دعا لیے

برسیں گی کب گھٹائیں کرم کی روش روش

سورج چمک رہے تھے بڑی آب و تاب سے

اُن ﷺ پر نثار کرنے ہیں سب روشنی کے پھول

میں سراپا خطا وہ سرا پا عطا میں گنہگار ہوں وہ شفیع الورا

کون ہے اس قدر محترم دیکھئے اللہ اللہ یہ حُسن ِ کرم دیکھئے

میری مشکل میں مشکل کشائی ہوئی میری رنج و محن سے رہائی ہوئی

ہم گنہگار جاتے تو جاتے کہاں مِل گئی اے خوشا انکے در پر اماں

بے نِشانوں کو اپنے نشاں مِل گئے نامرادوں کو دُونوں جہاں مِل گئے

آفتاب ِ رسالت درخشاں ہوا دُور دنیا سے سارا اندھیرا ہوا

ابرِ رحمت مسلسل برسنے لگا دِل کے پژ مُردہ غنچے مہکنے لگے

جوش میں آگئی رحمتِ کبریا ہم غریبوں کے حاجت روا آگئے

حُسن پر جن کے نازاں ہے شانِ خدا جنکے نقشِ قدم پر دو عالم فِدا

اُن کے جلووں سے نِکھرنے لگی دل کی رونق

چاند تاروں میں نصیرؔ امروز بڑی ہلچل ہے

مرحبا، صلِّ علیٰ کی ہیں صدائیں لب پر

بول بالا ہُوا حق کا تو بُتانِ باطل

رہگزر میں نظر آنے لگے ہر سُو جلوے

دل کو جلووں کی طلب، آنکھ کو طیبہ کی لگن

اُن کی آمد کے پیامی ہیں صبا کے جھونکے

اہلِ ایماں کے لبوں پر ہے دُرود اور سلام

کہکشاں، راہگزر، چاند، ستارے، ذرّے

اپنے شہکار پہ خلّاقِ دو عالَم کو ہے ناز

اہلِ دل گیت یہ گاتے ہیں کہ آپﷺ آتے ہیں

راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپﷺ آتے ہیں

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں۔

یہ صبحِ مسّرت ہے خوشیاں مناؤ

محمدؐ کے جلووں پہ قربان جاؤ

چمکنے کو ہے آج قسمت ہماری

وہ آئی، وہ آئی وہ آئی سواری

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں

مناظر تجلّی کے ہیں کچھ عجب سے

منوّر زمیں ہوگی ماہِ عرب سے

سراپا تجّلی مجسَّم عنات

بہ صدر رفعت و رحمت و رُشد و رافت

سحر دم یہ کرتی ہیں کرنیں اشارے

شہنشاہؐ کون و مکاں آرہے ہیں

ستاروں میں ، غنچوں میں، گُل میں، گُہَر میں

مٹانے کو ہر شر لباسِ بشر میں

بُجھے کفر و الحاد کے سب شرارے

بصد عظمت و عزّ و شاں آرہے ہیں

شہنشاہِ کون و مکاں آرہے ہیں

ادب! سرورِ مُرسَلاں آرہے ہیں

ہمیں تو نظمی سکھایا یہی بزرگوں نے

یہ عید عیدوں سے بڑھ کر ہے باالیقیں نظمی

شبِ ولادتِ احمد کی صبح کیا کہیے

شفیعِ روزِ جزا جن کا وصف اقدس ہے

وہ رت جگے وہ نوافل، درود اور سلام

ابو لہب کو سزا میں کمی ملے اس دن

وہ صبح جب کہ حبیب خدا ہوئے پیدا