Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

Reset

کیا لطف ہو آقا مجھے محشر میں یہ کہہ دیں

کیا اقرار سب نے رفعت شان مقدس کا

کیا رحمت سے اپنی آپ نے امت کو یاد اس دم

کیا نازل خدا نے آپ پر جس دم سلام اپنا

کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر

کیسے میں دکھا پاؤں گا طیبہ کے مناظر

کرم ان کا چلا یوں دل سے کہتا راہِ طیبہ میں

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں

کٓ گیسو ٰ ہ دَہن یٰ ابرو آنکھیں عٓ صٓ

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا

کیا بَنا نامِ خدا اَسرا کا دولہا نور کا

کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاع

کعبہ بھی ہے اِنھیں کی تَجلی کا ایک ظل

کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا

کِس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفا

کچھ نعت کے طبقے کا عَالم ہی نرالا ہے

کہدو رضا ؔسے خوش ہو خوش رہ

کُل سے اَعلیٰ کُل سے اَوْلیٰ کُل کی جاں

کیا خبر کتنے تارے کِھلے چھپ گئے

کون دیتا ہے دینے کو منھ چاہیے

کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی

کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج

کمالِ مہاں جلالِ شہاں جمالِ حِساں میں تم ہو عِیاں

کَلِیم و نَجی مَسیح و صَفی خلیل و رَضی رسول و نبی

کرلو نیّت سنّتوں کی تربیَت کے واسِطے

کرلو نیّت سنّتوں کی تربیَت کے واسِطے

کرلو نیَّت خوب کوشِش کرکے ہم اپنا عمل

کیوں رضاؔ کُڑھتے ہو ہنستے اُٹھو

کیوں رضاؔ کُڑھتے ہو ہنستے اُٹھو

کل تو دیدار کا دن اور یہاں

کل تو دیدار کا دن اور یہاں

کام زِنداں کے کیے اور ہمیں

کُوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم

کوئی ہے نازاں زُہد پر یا حسنِ توبہ ہے سِپر

کیا کیا ہیں تجھ سے ناز تِرے قصر کو کہ میں

کیوں نالہ سوز لَے کروں کیوں خونِ دل پیوں

کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ

کیجیے چرچا اُنہیں کا صبح و شام

کِس سے کہیے کیا کِیا کیا ہو گیا

کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں

کعبۂ جاں کو پنھایا ہے غلافِ مُشکیں

کی جو بالوں سے تِرے روضہ کی جاروب کشی

کُل سے بالا رُسل سے اَعلیٰ

کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما

کریم ایسا مِلا کہ جس کے کُھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے

کھڑے ہیں مُنْکَر نَکِیْر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور!

کیسے آقا کا حکم ٹالا

کشتۂ دشت حرم جنّت کی

کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے

کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے