مطلع
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
Dil ko jo aql de Khuda teri gali se jaye kyun
متعلقہ اشعار
مجرمو ! چشمِ تبسم رکھو
پھول بن جاتے ہیں انگاروں کے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
حدائقِ بخشش ۱
ولی کیا مُرسَل آئیں خود حضور آئیں
وہ تیری وعظ کی محفل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
رہیں وہ اپنوں سے غافل ارے معاذ اللہ
خوشا نصیب ہم ان کی نظر میں رہتے ہیں
تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث
تِرا قطرہ یمِ سَائل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱