مطلع
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
Dil ko jo aql de Khuda teri gali se jaye kyun
متعلقہ اشعار
خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں
شکل بشر میں نورِ الٰہی اگر نہ ہو!
کیا قدر اُس خمیرئہ مَا و مَدَر کی ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
پُشت پر ڈَھلکا سرِ انور سے شَمْلَہ نور کا
دیکھیں موسیٰ طُور سے اُترا صَحِیفہ نور کا
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
تم کرو جشنِ ولادت کی خوشی میں روشنی
وہ تمہاری گورِ تِیرہ جگمگاتے جائیں گے