Ghazal
Hum utha bethe hain is shokh ke deedar pe half
ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف
Urdu Kalam
مطلع
ہم اُٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دِیدار پہ حَلْف
جان دینے کے لیے اَبروئے خمدار پہ حَلْف
وعدۂ وَصل کیا اور قسم بھی کھائی
پھر جو کچھ سمجھے تو اِنکار اور اِنکار پہ حَلْف
رات بوسے تو نہ دیتے تھے مگر دیتے تھے
بوسہ بوسہ پہ قسم گریۂ خونبار پہ حَلْف
آپ کی آنکھوں نے بیمار بنایا ہم کو
ہو اگر شک تو رکھو نرگسِ بیمار پہ حَلْف
اس میں کیا بس ہے مرا کس لیے دیتے ہو مجھے
گرم نالہ پہ قسم آہِ شرر بار پہ حَلْف
وعدہ کیا شے ہے وہ خوبی سے اُڑا دیتے ہیں
ایک ہی ُجنبشِ اُبروئے ستم گار پہ حَلْف
مقطع
اے نعیمؔ آج جو مشہور وفا دشمن ہیں
رکھتے ہیں عہدِ وفا کا وہ وفادار پہ حَلْف
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal
Radif
ف
Total Ashaar
7
Total Misra
14
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem
Category
Ghazal