Skip to main content
نعت

مدینے جانے والے دردمندوں کی صدا سن لے

By August 19, 2021No Comments

مدینے جانے والے دردمندوں کی صدا سن لے
غریبوں کی حکایت بے کسوں کی التجا سن لے


پکڑ کر روضہ اقدس کی جالی چوم کر کہنا
دل فرقت زدہ کی اے حبیب کبریاﷺ سن لے


عنادل مائل شور وفغاں ہیں گل ہیں پژمردہ
خدارا جور دوراں اے زمانے کے شہا سن لے


تمھارے ہجر میں پردرد میری زندگانی ہے
براہیمی چمن کے عندلیب خوشنوا سن لے


گھرا کب سے پڑا ہوں بحر عصیاں کے تھپیڑوں میں
شکستہ ناؤ ہے ناساز رفتار ہوا سن لے


ہے بادِ صرصر الحاد کی یورش بہر جانب
پڑے ہیں رہزن ایماں بشکل رہنما سن لے


وہ مسلم حرکت غمزہ تھی جن کی قہر ربانی
وہ سہتے ہیں زمانے کی ہر اک جورو جفا سن لے


وہ  مسلم مارتا تھا ٹھوکریں جو تخت شاہی پر
وہ مارا مارا پھرتا ہے مثال بے نو اسن لے


نگاہِ لطف ہو حال پریشان مسلماں پر
طفیل گنبدِ خضریٰ ہماری التجا سن لے


یہی اک آرزو ہے میرا مدفن ہو مدینے میں
خلیل ملتجیٰ سن لے مسیحی مدعا سن لے


چمک پاتے ہیں سب تجھ سے مری قسمت بھی چمکادے
ہمارے مخزن رحم و کرم کان سخا سن لے


یہی ہے مختصر فریاد قلب اخؔتر محزوں
مرے مشکل کشا سن لے مرے حاجت روا سن لے

Was this article helpful?
YesNo