Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر

کریم ایسا مِلا کہ جس کے کُھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے

گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں اُمنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں

کھڑے ہیں مُنْکَر نَکِیْر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور!

خدائے قہّار ہے غضب پر کُھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر

وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے

جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے طالب جلوۂ مُبارک

تِری جلو میں ہے ماہِ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا!

سیہ لباسانِ دار دنیا و سبز پوشانِ عرش اعلیٰ

اُنہیں کی بُو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے

نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما

جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزش عشقِ چشم والا

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے

اللہ کنوئیں میں خود گِرا ہوں

ہیں پُشتِ پناہ غوثِ اعظم

رہزن نے لُوٹ لی کمائی

جو تم کو نہ جانتا ہو حضرت

اللہ کے سَامنے وہ گن تھے

ہم خاک میں مل چکے ہیں کب کے

ہے ظالم! میں نباہوں تجھ سے

آتی نہ تھی جب بدی بھی تجھ کو

حد کے ظالم سِتم کے کٹر

کیسے آقا کا حکم ٹالا

اُف رے خودکام بے مروّت

تُو نے ہی کیا خدا سے نادِم

گہرے پیارے پرانے دِل سوز

تجھ سے جو اٹھائے میں نے صَدمے

او شہد نمائے زہر دَر جام

ایمان پہ مَوت بہتر او نفس

شب بھر سونے ہی سے غرض تھی

اللہ اللہ کے نبی سے

دِن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی

مُلکِ سُخَن کی شاہی تم کو رضاؔ مُسلَّم

میرے کریم سے گر قطرہ کِسی نے مانگا

دُولہا سے اِتنا کہہ دو پیارے سُواری روکو

اللہ کیا جہنّم اب بھی نہ سَرد ہوگا

آنے دو یا ڈُبو دو اب تو تمہاری جانِب

اَسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قُدسیوں کے

ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اُٹھتے ہوں گے

جب آگئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں

اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا

اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں

کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے

کشتۂ دشت حرم جنّت کی

خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز

ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں

ہو گیا دَھک سے کلیجَا میرا

لبِ سیراب کا صَدقہ پانی

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا