اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
Utha do parda dikha do chehra ke Noor-e-Bari hijab mein hai
Zamana tareek ho raha hai ke mehr kab se niqab mein hai
متعلقہ اشعار
جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک
وہ تیری کرسیِ منزل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
اُس کی اَزواج کو جائز ہے نکاح
اُس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
سَعَتْ وَ مَشَتْ لِنَحْوِیْ فِیْ کُئُوْسٖ
فَہِمْتُ لِسُکْرَتِیْ بَیْنَ الْمَوَالٖ
ایمان ہے قالِ مُصطَفائی
قرآن ہے حالِ مصطفائی
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱