اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کُوچے بَسا دیے ہیں
Un ki mehak ne dil ke ghunche khila diye hain
Jis raah chal gaye hain kooche basa diye hain
متعلقہ اشعار
بلبل و نیلپر و کبک بنو پروانو!
مہ و خورشید پہ ہنستے ہیں چراغانِ عرب
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
ذرّے مِہرِ قُدس تک تیرے تَوَسُّط سے گیے
حدِّ اَوسَط نے کیا صُغریٰ کو کُبریٰ نور کا
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
بُلبل نے گُل اُن کو کہا قُمری نے سروِ جانفزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
طلب معشوق کی عاشق نے کی ہے بھیج کر خلعت
لیے جبرئیلؑ ســـــر پــــر آپؐ کی پوشاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi