Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

Reset

ان کا سایہ زمیں پر نہ پایا گیا

اۓ حلیمہ! تیری لوریوں کے لیے

ایسے اُمت کی قسمت سنورنے لگی

آمنہ دیکھ کر مسکرانے لگیں

آمنہ بی بی سب سے کہنے لگیں

اۓ حلیمہ تیری گود میں آ گئے

Asi Se Saaf Zahir Hai Tumhara Martaba Khwaja

Behzad Lakhnawi 3,487,846

اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا

ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر

اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

اللہ کے محبوب کے ٹکڑوں پہ یہ عاصی

اک کیفِ سرمدی کا تواتر سے ہے نزول

آنکھوں نے بھی درود ہے بھیجا تمام شب

امت کھڑی ہے زر کی تپش کے حصار میں

اس عصرِ نو کو عجز کی چادر عطا کریں

آقاؐ، ہوائے عدل مقفّل ہے اِن دنوں

اِمشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا

الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاکِ طیبہ میں

اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو

اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں

اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی

اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھو کر

اے رضاؔ آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی

اشک برساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم

اے رضاؔ طوفانِ محشر کے طَلاطُم سے نہ ڈر

ایک ٹھوکر میں اُحد کا زلزلہ جاتا رہا

اُن کا منگتا پاؤں سے ٹھکرا دے وہ دُنیا کا تاج

آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی

اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے

اے رضاؔ یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے

ایک سینہ تک مُشابہ اک وہاں سے پاؤں تک

اَنبیا اَجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا

آنکھ مِل سکتی نہیں در پر ہے پہرا نور کا

اب کہاں وہ تابِشیں کیسا وہ تڑکا نور کا

اَنجمن والے ہیں اَنجم بَزم حلقہ نور کا

آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا

ان کے قَصْرِ قَدْر سے خُلْد ایک کمرہ نور کا

آکچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں اے رضاؔ

اَحباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرض

آگے رہی عطا وہ بقدر طلب تو کیا

اُن پر کتاب اُتری بَیَانًا لِّکُلِّ شَیْء

اہلِ نظر سَلام کو حاضر ہیں اَلسَّلام

آنسو بہا کہ بہ گئے کالے گنہ کے ڈھیر

اُن پر درود جن کو کَسِ بے کسَاں کہیں

اُن پر دُرود جن کو حجر تک کریں سلام

اُن کی نبوت اُن کی اُبوت ہے سب کو عام

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے

آبِ حیات رُوح ہے زرقاکی بُوند بُوند

اس گل کے سوا ہر پھول باگوش گراں آیا