مطلع
Tu hai woh Ghaus ke har Ghaus hai shaida tera
تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تُو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا
Tu hai woh Ghaus ke har Ghaus hai shaida tera
Tu hai woh Ghais ke har Ghais hai pyasa tera
متعلقہ اشعار
بازِ اَ شْہَب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
دیکھ اُڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
کرلو نیّت سنّتوں کی تربیَت کے واسِطے
قافِلوں میں ہم سفر کرتے کراتے جائیں گے
تم نے تو لاکھوں کو جانیں پھیر دِیں
ایسا کتنا رکھتے ہیں آزار ہم
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
اہلِ سنت کا ہے خلد برکف چمن، کیوں اٹھائیں بھلا ہم خزاں کے مِحَن
نگہتِ عشقِ گلزارِ محبوب سے، ہے معطّر گلستانِ احمد رضا
Syed Marghoob Akhtar-ul-Hamdi