Hamd
Nala karte hain aah karte hain
نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں
Urdu Kalam
مطلع
نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں
یہ بھی کوئی گناہ کرتے ہیں
پاؤں زخمی ہوئے تو ہونے دو
سر کو ہم وقفِ راہ کرتے ہیں
آپ کے ِہجر میں اَسیرِ َالم
گریہ اے بادشاہ کرتے ہیں
دَور دُوری کا دُور ہوجائے
یہ دُعا صبح گاہ کرتے ہیں
دل لگانا کسی سے لاحاصل
وہ کسی سے نباہ کرتے ہیں
گرچہ عاصی ہیں تیری رحمت کی
ہم اُمید اے اِلٰہ کرتے ہیں
نااُمیدی ہے کام کافر کا
یاس وہ رُوسیاہ کرتے ہیں
آپ کے غم میں جان دی ہم نے
آپ کو ہم گواہ کرتے ہیں
اُن کے حُسنِ جمیل کی توصیف
اَنجم و مہر و ماہ کرتے ہیں
حال اُن سے کیا کہے کوئی
سن کے وہ واہ واہ کرتے ہیں
حُسنِ ناپائیدار پر یہ غرور
بُت ستم بے پناہ کرتے ہیں
عشق کرتے ہیں جو پری رُو سے
نامہ اپنا سیاہ کرتے ہیں
حُسنِ فانی بھی حُسن ہے کوئی
عمر کو کیوں تباہ کرتے ہیں
حُسنِ باطل پہ ناز اور َغمزَہ
کیوں یہ نامہ سیاہ کرتے ہیں
مقطع
آنکھ رکھتے ہیں جو نعیمؔ الدیں
دل سے عشقِ الٰہ کرتے ہیں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Khafeef Musaddas Makhboon Mahzoof
Radif
ں
Total Ashaar
15
Total Misra
30
Writer
Sadr-ul-Afazil Maulana Syed Muhammad Naeemuddin Muradabadi
Book
Riyaz-e-Naeem
Topics
Ishq-e-Rasool