Hamd
Jaan se tang hain qaidi gham-e-tanhai ke
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
Urdu Kalam
مطلع
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری اَنجمن آرائی کے
بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کے
کب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے
ہو غبارِ دَرِ محبوب کہ گردِ رَہ دوست
جزوِ اَعظم ہیں یہی سرمۂ بینائی کے
خاک ہو جائے اگر تیری تمناؤں میں
کیوں ملیں خاک میں اَرمان تمنائی کے
وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک کے چمکتے خورشید
لامکاں تک ہیں اُجالے تری زیبائی کے
دلِ مشتاق میں اَرمانِ لقا آنکھیں بند
قابل دِید ہیں اَنداز تمنائی کے
لب جاں بخش کی کیا بات ہے سُبْحَانَ اللہ
تم نے زندہ کیے اعجاز مسیحائی کے
اپنے دامن میں چھپائیں وہ مرے عیبوں کو
اے زہے بخت مری ذِلت و رسوائی کے
دیکھنے والے خدا کے ہیں خدا شاہد ہے
دیکھنے والے تِرے جلوۂ زیبائی کے
جب غبارِ رَہِ محبوب نے عزت بخشی
آئنے صاف ہوئے عینکِ بینائی کے
بار سر پر ہے نقاہت سے گرا جاتا ہوں
صدقے جاؤں ترے بازو کی توانائی کے
عَالِمُ الْغَیْب نے ہر غیب سے آگاہ کیا
صدقے اِس شان کی بینائی و دانائی کے
دیکھنے والے ہو تم رات کی تاریکی میں
کان میں سمع کے اور آنکھ میں بینائی کے
غیبی نطفے ہیں وہ بے علم جنم کے اندھے
جن کو انکار ہیں اس علم و شناسائی کے
مقطع
اے حسنؔ کعبہ ہی افضل سہی اس در سے مگر
ہم تو خوگر ہیں یہاں ناصیہ فرسائی کے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Mahzoof
Radif
ے
Total Ashaar
15
Total Misra
30
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat