Hamd
Aasiyon Ko Dar Tumhara Mil Gaya
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
Urdu Kalam
مطلع
عاصیوں کو در تمہارا مل گیا
بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا
فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی
مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا
کشفِ رازِ مَن رَّاٰنی یوں ہوا
تم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا
بیخودی ہے باعثِ کشفِ ِحجاب
مل گیا ملنے کا رستہ مل گیا
ان کے دَر نے سب سے مستغنی کیا
بے طلب بے خواہش اتنا مل گیا
ناخدائی کے لئے آئے حضور
ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا
دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا
نفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا
آنکھیں پر نم ہو گئیں سر جھک گیا
جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا
خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن
مجھ کو صحرائے مدینہ مل گیا
ہے محبت کس قدر نامِ خدا
نامِ حق سے نامِ والا مل گیا
ان کے طالب نے جو چاہا پالیا
ان کے سائل نے جو مانگا مل گیا
تیرے در کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب
مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا
مقطع
اے حسنؔ فردوس میں جائیں جناب
ہم کو صحرائے مدینہ مل گیا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musaddas Mahzoof
Radif
ا
Total Ashaar
13
Total Misra
26
Writer
Maulana Hasan Raza Khan
Book
Zauq-e-Naat