Manqabat
Fauj-e-gham ki barabar charhai hai
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
Urdu Kalam
مطلع
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم تمہاری دُہائی ہے
عمر کھیلوں میں ہم نے گنوائی ہے
عمر بھر کی یہی تو کمائی ہے
تم نے کب بات کوئی نَبَرائی ہے
تم سے جو آرزو کی بَر آئی ہے
تم سے ہر دَم اُمیدِ بھلائی ہے
مَیٹ دیجئے جو ہم میں بُرائی ہے
تم نے کب آنکھ ہم کو دکھائی ہے
تم نے کب آنکھ ہم سے پھرائی ہے
تم کو عالم کا مالک کیا اس نے
جس کی مملوک ساری خدائی ہے
کس کے قبضے میں ہیں یہ زمین و زماں
کس کے قبضے میں پیارے خدائی ہے
تو خدا کا ہوا اور خدا تیرا
تیرے قبضے میں ساری خدائی ہے
جب خدا خود تمہارا ہوا تو پھر
کون سی چیز ہے جو پرائی ہے
سب صفاتِ خدا کے ہو تم مَظہَر
ایک قابو سے باہر خدائی ہے
تاج رکھا ترے سر رَفَعْنَا کا
کس قدر تیری عزت بڑھائی ہے
اَنبیا کو رَسائی ملی تم تک
بس تمہاری خدا تک رَسائی ہے
اَز زمیں تا فلک جن و اِنس و مَلک
جس کو دیکھو تمہارا فدائی ہے
رَشکِ سلطان ہے وہ گدا جس نے
تیرے کوچہ میں دُھونی رَمائی ہے
میری تقدیر کردو بھلی تم نے
قدرتِ محو و اِثبات پائی ہے
میرا بیڑا کنارے لگے پیارے
نوح کی ناؤ کس نے ترائی ہے
آگ کو باغ کس نے کیا پیارے
تم نے تم نے ہی قدرت یہ پائی ہے
میرے دل کی لگی بھی بجھا دیجئے
نارِ نمرود کس نے بجھائی ہے
شرر اَفشانیاں کس کی ہیں عشق کی
آگ سینے میں جس نے لگائی ہے
کاش وہ حشر کے دن کہیں مجھ سے
نارِ دوزخ سے تجھ کو رِہائی ہے
خوشبوئے زُلف سے کوچے مہکے ہیں
کیسے پھولوں میں شاہا بسائی ہے
پیارے خوشبو تمہارے پسینے کی
خلد کے پھولوں سے بھی سوائی ہے
بات وہ عطرِ فردوس میں بھی نہیں
تیرے ملبوس نے جو ُسنگھائی ہے
اس رضا پر ہو مولیٰ رضائے حق
راہ جس نے تمہاری جلائی ہے
ناخدا باخدا آؤ بہرِ خدا
میری کشتی تباہی میں آئی ہے
ہیں یہ صدمے تری ہی فرقت کے
روز اَفزوں یہ دردِ جدائی ہے
طیبہ جاؤں وہاں سے نہ واپس آؤں
میرے جی میں تو اب یہ سمائی ہے
مررہا ہوں تم آجاؤ جی اُٹھوں
شربتِ دِید میری دَوائی ہے
مقطع
شوقِ دِیدارِ نوری میں اے نوریؔ
رُوح کھنچ کر اب آنکھوں میں آئی ہے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal
Radif
ے
Total Ashaar
29
Total Misra
58
Writer
Al-Madinat-ul-Ilmiyah
Book
Saman-e-Bakhshish
Category
Manqabat
Topics
Ishq-e-Rasool
Madina