Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

وہی دُھوم ان کی ہے ما شآء اللہ

جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو!

نِیم جلوے میں دو عَالم گلزار

نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا

پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف

سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں

آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام

ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے

ارے بد فَال بُری ہوتی ہے

کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے

بجرے چھوٹے، کشتیاں پڑنے لگیں

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

پھول مہکے، غُنچے چٹکے، گُل کِھلے

خُوب برسیں خُوب برسیں ، کُھل گئیں

ڈیرے، جھیلیں، تال، نہریں، ندیاں

پھراُٹھا پودوں کے جوبن میں اُبھار

مور کُو کے سینۂ پرداغ کے

لہلہانا ، کِھلکھلانا ، واہ واہ!

اُمڈی ، گرجیں ، چمکیں ، کالی بدلیاں

سُرخ، سبز، اُودی، سنہری بدلیاں

پھرنظرمیں گُدگدی ہونے لگی

باغِ دل میں وجدکے جھولے پڑے

دل کُھلے، کانوں میں رَس پڑنے لگے

تانوں کی بِینوں میں پھرلہرابجا

جُھومتی آئیں نسیمیں، نرم نرم

ندیاں پھرآنکھیں دکھلانے لگیں

اُودِی اُودِی بَدلیاں گِھرنے لگیں

کل جہاں دشمن بھی ہو جائے تو خوشتر غم نہیں

نزع ہو یا قبر ہو، میزان ہو یا پل صراط

سر وہی سر ہے کہ جس سر میں ہے تیرا خیال

اب مدد فرمائیے اے فاتحِ بدر و حنین

آپ ہی کی ذات سے، ذاتِ خدا کا ہے ظہور ہے

بزم میلادِ نبیﷺ ہے، ہر مسلماں شاد ہے

آنکھ میں روضہ، زباں پر نام، دل میں یاد ہے

آئو اُسی رسول ﷺ کے دامن کو تھام لیں

آئو اُسی رسول ﷺ سے لے کر چراغِ علم

اب دوسری کسی کی قیادت نہیں قبول

شکرِ خدا کے بعد مرے خوشنوا قلم!

ہر ہر افق پہ چاند ستاروں نے یہ لکھا

عرشِ بریں سے فرشِ زمیں تک قدم قدم

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے چمن زار میں، ریاضؔ

یومِ نجات نوعِ بشر کا، یہی ہے دن

بنیاد، انقلابِ کرم کی رکھی گئی

رم جھم درودِ پاک کی جاری فضا میں تھی

آئے مرے حضور ﷺ تو رُوئے زمین پر

توحید کے، زمیں پہ اتر آئے آفتاب

ارض و سما میں جشنِ ولادت کی دھوم تھی

جھوٹے خدا، خدا کی خدائی میں گم ہوئے

پھر یوں ہوا کہ ایک دن اس کائنات پر

آئے حضور ﷺ، روشنی قدموں میں گر پڑی