Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی

اُس کی اَزواج کو جائز ہے نکاح

روح تو سب کی ہے زندہ ان کا

اوروں کی روح ہو کتنی ہی لطیف

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات

لِلّٰہ ادھر بھی کوئی پھیرا

تقدیر چمک اٹھے رضاؔ کی

پُر نور ہے تجھ سے بزمِ عالَم

ہم تِیرہ دلوں پہ بھی کرم کر

تاریک ہے رات غم زدوں کی

ہو دونوں جہاں میں منھ اُجالا

تاریکیِ گُور سے بچانا

دکھ میں ہیں اندھیری رات والے

میرے دلِ مردہ کو جلا دے

آنکھیں تری راہ تک رہی ہیں

گھنگھورگھٹائیں غم کی چھائیں

بھٹکا ہوں تو راستہ بتا جا

فریاد دباتی ہے سیاہی

چھایا آنکھوں تلے اندھیرا

دل سرد ہے اپنی لو لگا دے

قَزّاق ہیں سر پہ راہ گم ہے

میری شبِ تار دن بنا دے

چمکا دے نصیبِ بد نصیباں

آنکھوں میں چمک کے دل میں آجا

اندھیر ہے بے تِرے مِرا گھر

مجھ کو شبِ غم ڈرا رہی ہے

ہیں تیرے سپرد سب امیدیں

روشن کر قبر بیکسوں کی

اللہ نہ چھوٹے دستِ دل سے

محبوب و محب کی مِلک ہے ایک

مُرْسَل مُشتاقِ حق ہیں اور حق

خواہانِ وصالِ کِبریا ہیں

اَصحاب نُجومِ رہنما ہیں

اِدبار سے تو مجھے بچالے

اللہ کی سلطنت کا دولہا

کُل سے بالا رُسل سے اَعلیٰ

ایمان ہے قالِ مُصطَفائی

باہَر زبانیں پیاس سے ہیں ، آفتاب گرم

مانا کہ سخت مجرم و ناکارہ ہے رضاؔ

اہلِ عمل کو اُن کے عمل کام آئیں گے

پُر خار راہ، برہنہ پا، تِشنہ آب دور

وہ سختیاں سوال کی وہ صورتیں مُہِیْب

مُجرم کو بارگاہِ عدالت میں لائے ہیں

جنگل درندوں کا ہے میں بے یار شب قریب

منزل نئی عزیز جُدا لوگ ناشناس

منزل کڑی ہے رات اندھیری میں نَابَلَدْ

پہنچے پہنچنے والے تو منزل مگر شہا

دریا کا جوش، ناؤ نہ بیڑا نہ ناخدا

کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما