Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

Reset

دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندرؔ

دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم

دستِ صبا پہ چاند کی کرنوں نے رکھ دیا

دھڑکن ہر ایک اُنؐ سے ہے منسوب اس لئے

دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم

دو قمر، دو پنجۂ خور، دو ستارے، دس ہِلال

دَب کے زیر پا نہ گنجایش سمانے کو رہی

دیدِ نقشِ سُم کو نکلی سات پَردوں سے نگاہ

دیکھ ان کے ہوتے نازیبا ہے دعویٰ نور کا

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا

دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہو گی آب

دشتِ حرم میں رہنے دے صیّاد اگر تجھے

دامن کا واسطہ مجھے اُس دھوپ سے بچا

دُنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیں

دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض

دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیاکریں

دشتِ گِرد و پیشِ طَیبہ کا ادب

دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب

دافع یعنی حافظ و حامی

دل دے دل کو جان جاں کو نور دے

دلکشا دلکش دِل آرا دلستاں

دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ

دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے

دِل کھول کے خُوں رو لے غمِ عارضِ شہ میں

دِل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا

دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فِدائی

دِل بستہ و خُوں گشتہ نہ خوشبُو نہ لطافت

دَہن میں زباں تمہارے لئے بدن میں ہے جاں تمہارے لئے

دو شنبہ مصطفٰی کا جمعۂ آدم سے بہتر ہے

دو شنبہ مصطفٰی کا جمعۂ آدم سے بہتر ہے

دُعا کر بختِ خُفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے

دُعا کر بختِ خُفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے

دِید گل اور بھی کرتی ہے قِیامت دل پر

دِید گل اور بھی کرتی ہے قِیامت دل پر

دمِ نزع جاری ہو میری زباں پر

دمِ نزع جاری ہو میری زباں پر

دو جہاں کے شاہ کی شاہی سُواری آگئی

دل ہمیں تم سے لگانا ہی نہ تھا

دل ہمیں تم سے لگانا ہی نہ تھا

دُور جانا ہے رہا دِن تھوڑا

دُور جانا ہے رہا دِن تھوڑا

دل کہ تیمار ہمارا کرتا

دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

دعویٰ ہے سب سے تیری شفاعت پہ بیشتر

دل بستہ بے قرار، جگر چاک، اشکبار

دُرِّ نجف ہُوں گوہَرِ پاکِ خوشاب ہُوں

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

دِل سے اِک ذوقِ مے کا طالب ہوں

دل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے