مطلع
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa’at ka sunate jayenge
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa'at ka sunate jayenge
Aap rote jayenge hum ko hansate jayenge
متعلقہ اشعار
تابہ کئے یہ خلش اور دردِ جگر، تابہ کَے ٹھوکریں کھاؤں میں دَر بہ دَر
ہو گنہگار اختر پہ آقا نظر، ہوں غلامِ غلامانِ احمد رضا
Syed Marghoob Akhtar-ul-Hamdi
مقام ان کا نہ فرش زمیں نہ عرش بریں
وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتے ہیں
خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں
جو فروزاں رہیں گی رہِ زیست میں
ایسی شمعیں جلانے حضور آگئے
Hafeez Taib