منتخب شعر
Salle Ala Ka Lab Pe Hai Gulshan Khila Hua
امت کھڑی ہے زر کی تپش کے حصار میں
اس کا برہنہ سر بھی ہے کب سے جھکا ہوا
Ummat khari hai zar ki tapish ke hisar mein
Is ka barahna sar bhi hai kab se jhuka hua
متعلقہ اشعار
ڈرتا ہوں میں، حضورؐ، نہ جائے بھٹک کہیں
آنسو ہے ایک چشمِ غزل میں رکا ہوا
ریاض حسین چودھری
مانگا بھی تھا ریاضؔ وسیلہ حضورؐ کا
دستِ دعا ہے آج بھی تیرا اٹھا ہوا
ریاض حسین چودھری
ہم لوگ دشتِ خوف میں تنہا ہیں اس طرح
صحرا میں جیسے دھوپ کا صحرا بچھا ہوا
ریاض حسین چودھری
دستِ صبا پہ چاند کی کرنوں نے رکھ دیا
اشکِ رواں سے میرا قصیدہ لکھا ہوا
ریاض حسین چودھری