مطلع
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa’at ka sunate jayenge
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa'at ka sunate jayenge
Aap rote jayenge hum ko hansate jayenge
متعلقہ اشعار
مدینہ کی نچھاور ہیں یہ میرا دل مری آنکھیں
نچھاور ہوں مدینہ پر مدینہ آنے والا ہے
بیچ میں آگ کا دَریا حائِل
قصد اس پار ہے کیا ہونا ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
حدائقِ بخشش ۱
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
غازۂ رُوئے قمر دُودِ چراغانِ عرب
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
دو جہاں کے شاہ کی شاہی سُواری آگئی
رَحمتوں کے وہ خزانے اب لٹاتے جائیں گے