جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو
اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں
اَلسَّلَام اے راحت جانِ حزیں
مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم
خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ
عیب کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ
ذاتِ والا پہ بار بار دُرود
بار بار اور بے شمار دُرود
باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دُشمنانِ اَہلِ بیت
دردِ دِل کر مجھے عطا یارب
دے مرے دَرد کی دَوا یارب
مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا
لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا
تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا
بھرا آتا ہے پانی میرے مونہہ میں حوضِ کوثر کا
کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا
دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا
اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے
تیری آمد ہے موت آئی ہے
جانِ عیسیٰ تیری دُہائی ہے
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کب کسی سے نگاہیں بچا کر چلے
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جان اُن پر نثارا کروں میں
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے سروَرِ عالی مقام
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اے رہبر جملہ اَنام
تم پر لاکھوں سلام تم پر لاکھوں سلام
سب سے اَعلیٰ عزت والے غلبہ و قہر و طاقت والے
لَا مَوجُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَشْھُوْدَ اِلَّا اللہ
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ