Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

Category: Naat

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے

شہد دکھائے زہر پلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش

وہ تو نہایت سَستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سُورج ہو

دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ

ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں

پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اَوندھے مُنھ

جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دِل دھڑکے

بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے

آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی اَنگڑائی

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا

سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سَونا زہر ہے اُٹھ پیارے

آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

جس نے مُردہ دِلوں کو دی عمر اَبد

غمزدوں کو رضاؔ مژدہ دیجے کہ ہے

سب چمک والے اُجلوں میں چمکا کیے

انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو!

جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے

سارے اچھّوں میں اچھّا سَمَجھیے جسے

سارے اُونچوں میں اُونچا سمجھیے جسے

مُلکِ کونین میں اَنبیا تاجدار

لامکاں تک اُجالا ہے جس کا وہ ہے

کیا خبر کتنے تارے کِھلے چھپ گئے

قرنوں بدلی رَسولوں کی ہوتی رہی

کون دیتا ہے دینے کو منھ چاہیے

جس کی دو بُوند ہیں کوثر و سلسبیل

جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی

ذِکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو

حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم

خلق سے اَولیا اَولیا سے رُسل

عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیاں

بُجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں

جس کے تلووں کا دھووَن ہے آبِ حیات

جس کو شایاں ہے عرشِ خدا پر جلوس

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی

بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا

سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی

کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی

ہے کون کہ گِریہ کرے یا فاتحہ کو آئے

دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے

کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج

گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر

دِل کھول کے خُوں رو لے غمِ عارضِ شہ میں

ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں

دِل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا

دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فِدائی

بو ہو کہ نہاں ہو گئے تابِ رُخِ شہ میں