Naat Academy Naat Academy
Naat Academy

نعت

Naat woh muqaddas صنف-e-sukhan hai jis mein Huzoor Nabi-e-Kareem Muhammad Mustafa ﷺ ki zaat-e-aqdas, seerat, shamaail, fazail, mojizat, rehmat aur muhabbat ka adab ke saath bayan hota hai.

صِدق و عَدل و کرم و ہمّت میں

میرے عیسیٰ تِرے صدقے جاؤں

مجرمو ! چشمِ تبسم رکھو

تیرے اَبرو کے تَصَدُّق پیارے

میرے آقا کا وہ در ہے جس پر

ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے

ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم

میرے آقا حضرتِ اچھے میاں

غوثِ اعظم آپ سے فریاد ہے

یاخدا تجھ تک ہے سب کا مُنتہی

بیٹھتے اُٹھتے حضور پاک سے

یا رسول اللہ دُہائی آپ کی

ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی

وَالضُّحٰی ، حُجُرَات ، اَلَمْ نَشْرَح سے پھر

شِرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب

ملحدوں کا شک نِکل جائے حضور

آپ درگاہِ خدا میں ہیں وَجیہ

حق تمہیں فرما چکا اپنا حبیب

اِذن کب کا مِل چکا اب تو حضور

کیجیے چرچا اُنہیں کا صبح و شام

غیظ میں جل جائیں بے دِینوں کے دل

ذِکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں

مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں

لے رضاؔ سب چلے مدینے کو

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

دِل سے اِک ذوقِ مے کا طالب ہوں

ضُعف مانا مگر یہ ظالم دل

جب تِری خُو ہے سب کا جی رکھنا

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے

عذر اُمید عفو گر نہ سنیں

دل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور

سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے

اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف

یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

اَبھی اَبھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ

الٰہی سُن لے رضاؔ جیتے جی کہ مولیٰ نے

مَدینہ چھوڑ کے وِیرانہ ہندؔ کا چھایا

تُو جس کے واسطے چھوڑ آیا طیبہ سا محبوب

نہ گھر کا رکھا نہ اس دَر کا ہائے ناکامی

جو دِل نے مَر کے جلایا تھا منّتوں کا چراغ

تِرا ستم زدہ آنکھوں نے کیا بِگاڑا تھا

حضور اُن کے خیالِ وطن مٹانا تھا

یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالِم

چمن سے پھینک دیا آشیانۂ بلبل

یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس

نہ رُوئے گُل ابھی دیکھا نہ بُوئے گُل سُونگھی

وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالا

جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضاؔ