مطلع
Tumhare zarre ke par to sitarahaye falak
تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک
تمہارے نعل کی ناقِص مِثل ضیائے فلک
Tumhare zarre ke par to sitarahaye falak
Tumhare na'l ki naqis misl ziyaaye falak
متعلقہ اشعار
ہوش رہتا نہیں ہے گریبان کا مرحبا مرحبا
شہرہ ہرسو ہے جس کے قلمدان کا مرحبا مرحبا
حشر کی ہائے کشمکش اور یہ اپنی بے کسی
کون سُنے تیرے سِوا، ہائے مِری دُہائیاں
Majmua e Salam
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
ہمارے دل میں ہمارے جگر میں رہتے ہیں
انہی کے گھر ہیں، یہ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں