مطلع
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
Dil ko jo aql de Khuda teri gali se jaye kyun
متعلقہ اشعار
جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے
وہ بِن مانگے تجھے حاصل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
حدائقِ بخشش ۱
محتاج نہ ہوگا کبھی وہ ہاتھ جو لکھے
اس مُعطِی و مُنعِم کی سخاوت پہ قصیدہ
Adeeb Rai Puri
تم کرو جشنِ ولادت کی خوشی میں روشنی
وہ تمہاری گورِ تِیرہ جگمگاتے جائیں گے