مقطع
Baray Lateef Hain Naazuk Se Ghar Mein Rehtay Hain
جو اخترؔ اُن کے تصور میں صبح و شام کریں
کہیں بھی رہتے ہوں، طیبہ نگر میں رہتے ہیں
Jo Akhtar Un Ke Tasawwur Mein Subh-o-Shaam Karain
Kahin Bhi Rehtay Hon Taiba Nagar Mein Rehtay Hain
متعلقہ اشعار
آنکھ دے اور آنکھ کو دِیدارِ نور
رُوح دے اور رُوح کو راحِ جناں
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں
اشارہ میں کیا جس نے قمر چاک
تو اس مَہ کا مَہِ کامل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
داورِ محشر کے آگے، پردہ میرا کُھل نہ جائے
اپنے دامن میں چھپالے، میں تیری رحمت کے صدقے
Majmua e Salam