مطلع
Buraq fikr hai gardo’n nurd aaj ki raat
براق فکر ہے گردوں نورد آج کی رات
ہوا اُڑاتی ہے تاروں کی گَرد آج کی رات
Buraq fikr hai gardo'n nurd aaj ki raat
Hawa urati hai taro'n ki gard aaj ki raat
متعلقہ اشعار
بلند ایسے نا رتبے کسی نبی کے ہوئے
زہے نصیب کے ہم اُمتی اُسی کے ہوئے
Muzaffar Warsi
عروجِ آدمیت آپ پر تمام ہوا
خدا خود اپنے ہی جلوؤں سے ہمکلام ہوا
Muzaffar Warsi
تجلیات کے ہالے میں یوں گھرے دونوں
کمانِ وصل کھنچی ، مل گئے سر ے دونوں
Muzaffar Warsi
رواں تھے ساتھ فرشتے عبا اٹھائے ہوئے
فضائیں کتبہ, صلِ علٰی اٹھائے ہوئے
Muzaffar Warsi