مقطع
Buraq fikr hai gardo’n nurd aaj ki raat
بلند ایسے نا رتبے کسی نبی کے ہوئے
زہے نصیب کے ہم اُمتی اُسی کے ہوئے
Buland aise na rutbe kisi nabi ke huye
Zahe naseeb ke hum ummati usi ke huye
متعلقہ اشعار
عروجِ آدمیت آپ پر تمام ہوا
خدا خود اپنے ہی جلوؤں سے ہمکلام ہوا
Muzaffar Warsi
تجلیات کے ہالے میں یوں گھرے دونوں
کمانِ وصل کھنچی ، مل گئے سر ے دونوں
Muzaffar Warsi
رواں تھے ساتھ فرشتے عبا اٹھائے ہوئے
فضائیں کتبہ, صلِ علٰی اٹھائے ہوئے
Muzaffar Warsi
گیا تھا عشق خلاؤں کی راہ سے آگے
نگاہ جاتی ہے حدِ نگاہ سے آگے
Muzaffar Warsi