یقین والے کہاں سے چلے، کہاں پہنچے
جواہل شک ہیں، اگر میں مگر میں رہتے ہیں
Yaqeen Walay Kahaan Se Chalay Kahaan Pohanchay
Jawahil Shak Hain Agar Mein Magar Mein Rehtay Hain
متعلقہ اشعار
جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک
وہ تیری کرسیِ منزل ہے یا غوث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
ستاروں سے کہو آنکھیں بچھائیں اُن کی آمد ہے
ملائک جن کــــے در پر جھاڑنے کو خاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi
بندہ ام تَرسے مَدار از بَدسِگال
سخت عَزم و قاتِلَم وقتِ قتال