مطلع
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa’at ka sunate jayenge
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
Pesh-e-Haq muzhdah-e-shafa'at ka sunate jayenge
Aap rote jayenge hum ko hansate jayenge
متعلقہ اشعار
چرچے حُوروں میں ہیں دیکھو تو ذرا بال براق
سُنبلِ خلد کے قربان اُتارے گیسو
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
حدائقِ بخشش ۱
جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے طالب جلوۂ مُبارک
دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
مقام ان کا نہ فرش زمیں نہ عرش بریں
وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتے ہیں
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اِک ٹُوٹی آس نے ہارے جی سے رَفاقت پالی ہے
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish