مطلع
Tu hai woh Ghaus ke har Ghaus hai shaida tera
تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تُو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا
Tu hai woh Ghaus ke har Ghaus hai shaida tera
Tu hai woh Ghais ke har Ghais hai pyasa tera
متعلقہ اشعار
جو اخترؔ ان کے تصور میں صبح و شام کریں
کہیں بھی رہتے ہوں طیبہ نگر میں رہتے ہیں
دیکھو قرآں میں شبِ قدر ہے تا مطلعِ فجر
یعنی نزدیک ہیں عارِض کے وہ پیارے گیسو
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
حدائقِ بخشش ۱
وہ آتے ہیں کہ جن کی نرگسی آنکھوں کے سودائی
پے تسکینِ دل حوروں کــــــو جا کر تاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi
رو برش اُو را برش بیدار ساز
ہوش بخش و نُوش بخش و جاں نواز
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan