مطلع
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Phir ke gali gali tabah thokaren sab ki khaye kyun
Dil ko jo aql de Khuda teri gali se jaye kyun
متعلقہ اشعار
باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
کام ہے ان کے ذِکر سے خیر وہ یوں ہوا کہ یوں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
حدائقِ بخشش ۱
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے
نُورِ وَحدت کا ٹکڑا ہمَارا نبی
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب
تو نہ اُن کا ہے نہ تھا پھر تجھ کو کیا
Aala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan
Hadaiq-e-Bakhshish
آپ نے عشق نبی کا وہ پڑھایا ہے سبق
ہوگیا ایماں ہمالا سیدی احمد رضا
Mufti Ahmed Miyan Barkati