Skip to main content
Lyrics

Masjidon Ke Imam

By July 21, 2019No Comments

ایوانِ بندگی کا اجالا امام ہیں
محراب و در کے ماتھےکا سہرا امام ہیں
اے لوگو انکے ساتھ محبت میں ہے نجات
اللہ کی رضا کا سفینہ امام ہیں
سرکار نے بڑھائ، اماموں کی عزّ و شان
بیشک حبیبِ شاہِ مدینہ امام ہیں
ہے خانۂ خدا کی بہار ان سے برقرار
مسجد کے حرفِ جیم کا نقطہ امام ہیں
مسجدکے ساتھ انکو بھی رکھیے سنوار کر
منبر کی جان ، روحِ مُصلیّٰ امام ہیں
انکےجگر کےگھرمیں بھی کچھ رنگ و روشنی
مسجد تو عالیشان ہے، خستہ امام ہیں
تنخواہ ہے قلیل تو حاجات ہیں کثیر
پھر بھی بلند عزم ہمیشہ امام ہیں
اللہ کے بھروسے گذرتی ہے زندگی
جس میں کِھلے ہیں پھول وہ صحرا امام ہیں
خوش اِسلیے ہے راہِ امامت پہ یہ گروہ
خود سرورِ جہاں، شہِ بطحا امام ہیں
یہ اپنے بازئوں پہ اٹھاتے ہیں سب کا بوجھ
سب عابدوں میں افضل و اعلی امام ہیں
رب کےحضور سب کی نمائندگی کریں
اِس خاصیت میں یکّہ و تنہا امام ہیں
دیکھوذرا،صفوں کا نظارہ ہے کیا حسیں
سب مقتدی براتی ہیں، دولھا امام ہیں
ہوتاعمل، وجوبِ جماعت پہ کس طرح
اسکی ادا کا تنہا وسیلہ امام ہیں
ان پاسبانِ منبر و محراب کوسلام
فتنوں کی شب میں نور کا دھارا امام ہیں
کوئ نہ توڑ پاے گا اسلام کا حصار
جبتک فصیلِ دہر پہ یکجا امام ہیں
یا رب ہمیشہ تازہ و تابندہ رکھ انہیں
ملت کی سربلندی کاجھنڈا امام ہیں
سومشکلیں،ہزار اَلَم، لاکھ پیچ وخم
ہردھوپ سہہ کے قوم کا سایہ امام ہیں
اوروں کی شدتوں پہ میں کیا تبصرہ کروں
مسجد کمیٹیوں کے ہی کُشتہ امام ہیں
پتھربھی کھائیں،پھل بھی دیں اورسایہ بھی کریں
خیر الامم کے صبر کا جلوہ امام ہیں
تنخواہ دے رہے ہو تو عزت بھی دو انہیں
نوکرنہ سمجھو قوم کے آقا امام ہیں
انکی خوشی میں سبکی خوشی ہے چُھپی ہوئ
بیشک ہماری قوم کا چہرہ امام ہیں
خاروں کے درمیاں بھی تبسم نہ کم ہوا
گل سے کہیں زیادہ شگفتہ امام ہیں
پہچانتےہیں نفرت و الفت کی ہر نظر
خشکی تری کے دانا و بینا امام ہیں
چوبیس گھنٹے حاضر و ناظر رہیں مگر
غفلت کا آہ پھر بھی حوالہ امام ہیں
انکی جھکی نگاہ کو کمزوری مت سمجھ
صبر و خودی کا کوہِ ہمالہ امام ہیں
ان کےخلاف جاؤ، مگر اِتنا سوچ لو
جس پر کھڑی ہے قوم، وہ پایہ امام ہیں
ہو کوئ بھول چوک توکہہ دیجے پیار سے
انسان ہی تو ہیں، کہ فرشتہ امام ہیں
پانی بھی ان کے حسن وفا پر نثار ہے
خود تشنہ رہ کے اوروں پہ دریا امام ہیں
محدودانکی ذات نہیں، بس نماز تک
ہر ہر قدم پہ سب کا سہارا امام ہیں
مسجد کےاک معلم و استاذ بھی ہیں یہ
درجے میں والدین سے اعلیٰ امام ہیں
ہر اک قدم سنبھال کے اِس راہ پر چلیں
ملت کا اعتماد و بھروسہ امام ہیں
آوازِحق اٹھائیں جو مِل جُل کے ایک ساتھ
پھر تازہ انقلاب کا مژدہ امام ہیں
جن میں بھی کچھ کمی ہے خدارا کریں وہ دُور
بدنام چند لوگوں سے جملہ امام ہیں
یہ ٹوٹ جائیں گے تو بکھر جاے گی یہ قوم
باطل کا اس لیے ہی نشانہ امام ہیں
اپنے کو چند لوگوں میں محدود مت رکھیں
وہ کامیاب ہیں جو کُشادہ امام ہیں
خائف رہیں گے دشنِ دیں، تم سے مومنو
جب تک تمہارے شانہ بَشانہ امام ہیں
اچھے تعلقات میں دونوں کی قدر ہے
یہ قوم ہے انگوٹھی، نگینہ امام ہیں
کوشش ہے اے فریدی، مکمل نبھائیں ہم
فضلِ خدا سے ہم بھی اک ادنیٰ امام ہیں

علّامہ سلمان رضا فریدی مصباحی صدیقی