Skip to main content

سرکار غوثِ اعظم نظرِ کرم خدارا

میرا خالی کاسہ بھردو میں فقیر ہوں تمہارا

جھولی کو میری بھردو ورنہ کہے گی دنیا

ایسے سخی کا منگتا پھرتا ہے مارا مارا

مولا علی کا صدقہ گنج شکر کا صدقہ

میری لاج رکھ لو یا غوث اعظم میں فقیر ہوں تمہارا

سب کا کوئی نہ کوئی دنیا میں آسرا ہے

میرا بجز تمہارا کوئی نہیں سہارا

دامن پسارے درپہ لاکھوں ولی کھڑے ہیں

ہوتا ہے تیرے در سے کونین کا گزارا

یہ تیرا کرم مجھ پر کہ بلا لیا ہے در پر

کہاں روسیاہ فریدی کہاں آستاں تمہارا

فریدی

براے رسولِ حشم، غوث اعظم

ہمارا بھی رکھنا بھرم، غوث اعظم

تمہارے ہی آگے جبیں اولیاء کی

ہوئ ہے عقیدت سے خم، غوث اعظم

معطر منور بنے گھر ہمارا

پڑیں گر تمہارے قدم, غوث اعظم

بلاؤں نے گھیرا ہے چاروں طرف سے

“کرم غوث اعظم کرم، غوث اعظم”

خدا کی عطا سے زمانے میں بیشک

ترا در ہے رشک ارم، غوث اعظم

ملے جو مجھے بھیک رزق ثنا کی

کروں تیری مدحت رقم، غوث اعظم

تمہاری مدد کے طلبگار ہیں سب

عرب ہوں کہ اہل عجم، غوث اعظم

خدا را انہیں دید اپنی کرادو

ہیں فرقت میں آنکھیں یہ نم، غوث اعظم

یہی آرزو ہے حلیم” ہو کے جائے

ترے در سے سوے حرم، غوث اعظم

عبدالحلیم گونڈوی

شاہِ خوباں، تاجِ سلطاں غوثِ اعظم دستگیر

نائبِ محبوبِ رحماں غوثِ اعظم دستگیر

از توئی خواہم دواےِ رنج و غم درد و الم

ماحیِ تقصیر و عصیاں غوثِ اعظم دستگیر

دِہ مُرا یک جامِ لطفت من یکے رندانِ تو

اے قسیمِ جامِ عرفاں غوثِ اعظم دستگیر

خاورِ چرخِ ولایت ، ماہتابِ معرفت

کوکبِ افلاکِ فیضاں غوث اعظم دستگیر

تاجِ شاہانِ زمانہ ذرۂِ پیزارِ تو

تاجدارِ اہلِ عرفاں غوثِ اعظم دستگیر

پاےِ تو بر گردنِ کل اولیا و اصفیا

از توئی کل فیض خواہاں غوثِ اعظم دستگیر

نسبتِ تو بہرِ شمسِؔ خستہ زادِ آخرت

حامیِ من شاہِ جیلاں غوثِ اعظم دستگیر

شمسؔ علؔیمی

کردو رہا غوث اعظم

غم سے سدا غوث اعظم

ہیں آپ ھی تو ہمارے

مشکل کشا غوث اعظم

کل اولیا پا رہے ہیں

تجھ سے ضیا غوث اعظم

مانگوں کرم میں تمہارا

رب سے سدا غوٹ اعظم

ہے کون غم خوار میرا

تیرے سوا غوث اعظم

مانگوں میں جو تیرے در سے

کرنا عطا غوث اعظم

ہوں جو گھرا مشکلوں میں

مجھ کو بچا غوث اعظم

کتنے ہیں محبوب عالم

احمد رضا، غوث اعظم

محمد محبوب عالم چشتی رضوی

غوث الورٰی کودل میں بسائیں گے باربار

جنت میں ایک محل توبنائیں گے باربار

جیلاں میں آرہی ہے مدینے سے روشنی

قسمت کو چار چاند لگائیں گے باربار

خاروں کی انجمن میں کھیلاہے حسیں گلاب

خوشبو کی بارشوں میں نہائیں گے باربار

غم ہائے روزگار سے پانا ہے گر نجات

غوث الورٰی کے درپہ ہم آئیں گے باربار

غوث الورٰی کے فیض کادرہے کُھلا ہوا

رحمت برس رہی ہے نہاىئیں گے باربار

دربار غوث پاک ادب کی ہے جا ثمیر

ہم باادب ہیں سرکو جھکاىئیں گے باربار

محمد ثمیرالدین ثمیر رضوی

سبھی مقتدی مقتدیٰ غوث اعظم

شہنشاہِ کل اولیاء غوث اعظم

عطا صدقئہ پنجتن ہو مجھے بھی

یہی ہے فقط التجا غوث اعظم

ہیں اغواث اقطاب افراد سارے

ترے زیرِ پا باخدا غوث اعظم

میں دنیا میں بھٹکا مسافر ہوں شاید

مجھے سیدھا رستہ چلا غوث اعظم

ترے در کو حاتم سے تشبیہ کیسی

ترے در پہ حاتم کھڑا غوث اعظم

میں سائل ہوں اہل قلم یہ بتاؤ

ہے دنیا میں کیا دوسرا غوث اعظم؟

ہے فریادِ ساجد بروزِ قیامت

چھپا لینا میری خطا غوث اعظم

ساجدرضا جامعی سلطانپوری

ہو مجھ پہ جو چشم کرم غوث اعظم

تو مٹ جائے سب رنج و غم غوث اعظم

بلالو مجھے اپنے در پہ بلالو

کہ یادوں سے ہے آنکھ نم غوث اعظم

ہمیشہ ترا ذکر کرتا رہوں گا

مرے دم میں جب تک ہے دم غوث اعظم

طلب تیرے در سے کبھی جو کیا ہے

تو حد سے سوا پائے ہم غوث اعظم

بنایا ہے دیوانہ اپنا مجھے گر

لحد میں بھی رکھنا بھرم غوث اعظم

مجھے تیرا دامن ملا ہے جہاں میں

ہے کیا اتنا احسان کم غوث اعظم

ترا ذکر کرنے سے منہاج کا دل

بنے کیوں نہ رشک ارم غوث اعظم

منہاج پرتاپگڑھی

لبوں پر ہے سجی توصیف و مدحت غوثِ اعظم کی

ہے ایماں کی ضمانت دل میں چاہت غوثِ اعظم کی

کھلاتا ہے انہیں اللہ اپنی قسمیں دے دیکر

بیاں کیسے کرےگا کوئی عظمت غوثِ اعظم کی

عیاں ہے سارا عالم مثلِ رائی اک ہتھیلی پر

خدا جانے ہے آخر کیا حقیقت غوثِ اعظم کی

یہ جس دل میں سما جائے خدا کا قرب پا جائے

بڑی توقیر افزا ہے محبت غوثِ اعظم کی

مہ و انجم بھی تکتے رہتے ہیں چشمِ عقیدت سے

ہے اس درجہ ضیا افروز صورت غوثِ اعظم کی

کسی سائل کو خالی ہاتھ لوٹایا نہیں در سے

زمانے بھر میں ہے روشن سخاوت غوثِ اعظم کی

دکھادے اے خدائے پاک جلوہ غوثِ اعظم کا

مجھے بھی ہے تمنائے زیارت غوثِ اعظم کی

بھلا کیسے سمائےگی محبت اہل دنیا کی

ہو جس کے سینے میں پیوست الفت غوثِ اعظم کی

پکارا جب کبھی میں نے ندیم ان کو مصیبت میں

بچانے آ گئی یک لخت نصرت غوثِ اعظم کی

ندیم نوری برکاتی

حق بھی ہیں حق آئنہ ہیں غوثِ اعظم دست گیر

دین ہیں دین خدا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

فضلِ خاصِ کبریا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

ابنِ پاکِ مصطفیٰ ہیں غوثِ اعظم دست گیر

دلبرِ شیرِ خدا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

چینِ قلبِ فاطمہ ہیں غوثِ اعظم دست گیر

مہرِ چرخِ اولیا ہیںچ غوثِ اعظم دست گیر

نازشِ کل اتقیا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

خوشبوئے حسین سے آراستہ ہیں سر بسر

وہ گلِ آلِ عبا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

قطبِ دوراں چور کو کر دیں نگاہِ لطف سے

وہ ولیِ با صفا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

رشکِ سلطانِ. زمانہ ،منبعِ جود و سخا

تیری چوکھٹ کےگداہیں غوثِ اعظم دست گیر

ہرمرض کےتیری چوکھٹ سےوہ بنتےہیں طبیب

جو مریضِ لا دوا ہیں غوثِ اعظم دست گیر

دہر میں مفتاح ہم اہلِ سنن کے واسطے

راہ بر ہیں رہنما. ہیں غوثِ اعظم دست گیر

مفتاح الحسن مفتاح چشتی

اپنے روضے پہ ہمیں جلد بلانا یا غوث

شربتِ دید ہمیں آپ پِلانا یا غوث

پڑھتا ہوں صبح و مساء تیرا ترانہ یا غوث

سوئی قسمت کو مری آپ جگانا یا غوث

التجا آپ سے کرتا ہے دوانہ یا غوث

رخِ روشن اِسے مرقد میں دکھانا یا غوث

کیسے اندازہ لگائے کوئی عظمت کا جب

شان ہے آپ کی مُردوں کو جِلانا یا غوث

التجا آپ سے اتنی سی ہے اس عاصی کی

“ہاتھ پکڑا ہے تو تا حشر نبھانا یا غوث”

کالے کوّے ہی مبارک ہو سبھی نجدی کو

اہلِ سنت کو سدا مرغا کھلانا یا غوث

پیاس جب ہم کو ستائے سرِ بزمِ محشر

جامِ کوثر ہمیں ہاتھوں سے پلانا یا غوث

لاج جب آپ نے رکھی ہے مری دنیا میں

روزِ محشر بھی مری لاج بچانا یا غوث

بیچ منجدھار میں کشتی جو پَھنسے نوری کی

فضل سے اپنے اسے آپ تِرانا یا غوث

شاکر رضا نوری القادری

آپ کا ہے مجھے ہر وقت سہارا یا غوث

بن گئ بگڑی مِری جب بھی پکارا یا غوث

دل ہے بے چین بلا لیجیئے اپنے در پر

اب نہیں ہوتا ہے بھارت میں گزارا یا غوث

ہے مقدر کا سکندر وہی اس دنیا میں

آپ نے جس کے مقدر کو سنوارا یا غوث

آپ کے در سے کوئ غیر بھی خالی نہ گیا

اس لئے میں نے بھی دامن ہے پسارا یا غوث

چار جانب سے ہیں آلام ہمیں گھیرے ہوۓ

دور ہو رنج و الم سب ہی ہمارا یا غوث

اپنے ہمدمؔ کو بھی اک بار اجازت دے دیں

آپ کے روضے کا کر لے یہ نظارا یا غوث

انصاری عبدالقادر ہمدمؔ قادری

عظمتِ غوث الوری کوئی سمجھ پائے گا کیا

با ادب ہیں اولیاء کوئی سمجھ پائے گا کیا

ہو گئے تائب ہزاروں راہزن بر دستِ تُو

ایسا ہے تو رہنما کوئی سمجھ پائے گا کیا

سیّدی خواجہ پیا ہوں ، یا کہ ہوں احمد رضا

سب ہیں کرتے تذکرہ کوئی سمجھ پائے گا کیا

لے رہے ہیں اولیاء گردن پہ ان کے پائے ناز

ہے یہ ان کی شانِ پاکوئی سمجھ پائے گا کیا

نکلی بارہ سال کی ڈوبی ہوئی ساری برات

آپ نے کی جب دُعا کوئی سمجھ پائے گا کیا

اعلٰی حضرت نے کہا شعروسخن میں آپ کو

ہو امام و مقتدا کوئی سمجھ پائے گا کیا

کر دیا مُردوں کو زندہ قُمۡ بِاذنی سے غیاثؔ

یہ ہے اُن کا مرتبہ کوئی سمجھ پائے گا کیا

محمد غیاث الدین اسمٰعیلی

چشم و چراغِ حیدرِ کرّار غوث پاک

جاں آپ پر نثار ہے سرکار غوث پاک

فرمانِ عالیشان سے ظاہر ہے , آپ کو

رب نے کیا ہے ولیوں کا سردار غوث پاک

بارہ برس کی ڈوبی ہوئی کشتی آپ نے

اک پل میں ہے لگایا اسے پار غوث پاک

آتا ہے در پہ جو بھی عطا کرتے ہیں اسے

رب کی عطا سے آپ ہیں مختار غوث پاک

ہوجائے گا نصیبہ ہمارا بھی تابناک

اک بار گر کرادیں جو دیدار غوث پاک

اس کو جلا نہ پائے گی دوزخ کی آگ بھی

الفت میں ہے جو آپ کی سرشار غوث پاک

حسنین بھی ہے آپ کے روضے کا اک گدا

اس کو بھی اب بلائیے دربار غوث پاک

حسنین رضا قادری بلرامپوری

دور ہو میرے دل سے ہر غم

غوث الاعظم غوث الاعظم

آپ تو ہیں ہر زخم کا مرہم

غوث الاعظم غوث الاعظم

صدقہءِ حسّاں ، رومی و بیدم

غوث الاعظم غوث الاعظم

کر دو عطا یا شیخ العالم

غوث الاعظم غوث الاعظم

فاطمہ بی کی آنکھ کے تارے

مولا علی کے راج دُلارے

سارے سلاسل کا ہیں سنگم

غوث الاعظم غوث الاعظم

غوث و قطب ابدال قلندر

تیرا قدم ہے سب کے اوپر

سامنے تیرے سب کے سر خم

غوث الاعظم غوث الاعظم

نانا تیرے ساقئی کوثر

دادا تیرے فاتحِ خیبر

اونچا رہے گا تیرا پرچم

غوث الاعظم غوث الاعظم

مژدے سے لا خوف کیا تھا

قادریوں کو پھر ہو غم کیا

کیوں ہو مُریدوں کو کوئی غم

غوث الاعظم غوث الاعظم

بھیک کرم کی دے دو داتا

فیصل بھی ہے در پر آیا

دل مضطر ہے آنکھ ہے پُر نم

غوث الاعظم غوث الاعظم

فیصل قادری گنوری

ترے درکا جو ہوجائے نظارہ یاشہ بغداد

چمک جائے مقدر کا ستارا یاشہ بغداد

وہ بارہ سال کی ڈوبی ہوئی تھی جو سمندر میں

لگائی تونے کشتی کو کنارا یاشہ بغداد

غلامان نبی ہوں اور ترے درکا بھکاری ہوں

ترے در سے ہے منگتوں کا گذارا یاشہ بغداد

لگا کر قم باذنی کی صدا مردے جلا دینا

مزہ آتاہے پھر آؤ دوبارہ یاشہ بغداد

بنایا چور کو ابدال ڈاکو بن گیا صوفی

بہا جب فیض کا دھارا تمہارا یاشہ بغداد

قسم سے بھاگ جاتاہے بہت ہی دور دیوبندی

کسی سنی نےجب بھی ہے پکارا یاشہ بغداد

سنور جائے مری بگڑی ہوئی قسمت ابھ دلبر

اگر ہو جائے گا تیرا اشارہ یاشہ بغداد

دلبرنورانی دلبر

لختِ جان و دلِ حسنین ہیں غوث الثقلین

صورتِ مجمعِ بحرین ہیں غوث الثقلین

اللہ اللہ مقام اُن کا ہے کتنا اعلٰی

سبطِ شاہنشہِ کونین ہیں غوث الثقلین

اُن کی تابش سے فروزاں ہیں ولایت کے چراغ

عکسِ آئینئہ شیخین ہیں غوث الثقلین

جملہ اصحابِ ولایت کے سروں سے بھی پَرے

مرحبا آپ کے قدمین ہیں غوث الثقلین

بحرِ تفسیر و احادیث کے غوّاص ہیں وہ

فخرِ مشکوٰۃ و جلالین ہیں غوث الثقلین

کج کلاہانِ زمانہ بھی ہیں نوکر اُس کے

جس کے سر آپ کے نعلین ہیں غوث الثقلین

اپنے جلووں کی تب و تاب سے آباد کریں

کتنے ویران مِرے نین ہیں غوث الثقلین

زندگانی کا بھرم آپ نے رکھا ہوا ہے

آپ ہی تو مرے سُکھ چین ہیں غوث الثقلین

کیا بڑھے دستِ غم و رنج مری سمت نواز

میرے اور اُس کے جو مابین ہیں غوث الثقلین

نواز اعظمی

تیرے در سے جو نسبت ہے غوث الوری

اوج پر میری قسمت ہے غوث الوری

عرصہِ شیر خواری میں روزہ رکھا

تیری کیا شان و عظمت ہے غوث الوری

مثلِ رائی ہے تیری نظر میں جہاں

تیری ایسی بصیرت ہے غوث الوری

المدد کہہ کے جس نے پکارا تجھے

پائی تیری اعانت ہے غوث الوری

تو نے مردہ دلوں کو ہے زندہ کیا

یہ بھی تیری کرامت ہے غوث الوری

ڈوبی کشتی ترا دے جو اک آن میں

تیری شانِ ولایت ہے غوث الوری

گھر، گئے پل میں ستر مریدوں کے آپ

کیا ہی شانِ سیاحت ہے غوث الوریٰ

تو نے پتوں کو کھا کے نہ شکوہ کیا

ایسی تیری قناعت ہے غوث الوری

منقبت جو تری لکھ رہا ہے وقار

یہ بھی تیری عنایت ہے غوث الوری

محمد وقار احمد نوری

محبوب کبریا ہیں سرکار غوث اعظم

رحمن کا پتہ ہیں سرکار غوث اعظم

دنیا وآخرت کی ہر شۓ انہیں سے پائٔی

بحر کرم عطا ہیں سرکار غوث اعظم

کافی ہے یہ سہارا روز قیامت ہم کو

محشر میں آسرا ہیں سرکار غوث اعظم

چہرہ جدھر بھی پھیرو جلوہ نما وہی ہیں

ہر سمت جابجا ہیں سرکار غوث اعظم

جس سمت جو گلی ہے زیر قدم ولی ہے

سلطان اولیاء ہیں سرکار غوث اعظم

صفدر تو بس تمہارا ادنیٰ سا اک گدا ہے

اسکا تو آسرا ہیں سرکار غوث اعظم

وھاب صفدر

شہِ جود و سخاوت غوث اعظم

شہنشاہِ ولایت غوث اعظم

کرو چشمِ عنایت غوث اعظم

بڑھے نورِ بصیرت غوث اعظم

بڑی نازک ہے حالت غوث اعظم

کرو میری اعانت غوث اعظم

خداکےفضل سے میں قادری ہوں

ملی اچھی ہے نسبت غوث اعظم

مریدی لاتخف تیرا ہے فرماں

ہےدل کو اس سےراحت غوث اعظم

کبھی بغداد سے جاؤں مدینے

مرےدل کی ہےحسرت، غوث اعظم

خدارا زارؔ کی ہو جائے پوری

تمنائے زیارت غوث اعظم

عدنان حسن زارؔ

کہتا ہے ہر اک دوانہ غوث اعظم دستگیر

ہےتمہاری شان اعلی غوث اعظم دستگیر

سرخروئی میرے حصے میں ہے کیونکہ ہر گھڑی

ہے مرے لب پر ترانہ غوث اعظم دستگیر

آپ فرما دیں کرم تو دیکھنے آجاوں میں

آپ کا روضہ نرالا غوث اعظم دستگیر

آپ پر قربان ہونے کے لئے تیار ہے

میرے گھر کا بچہ، بچہ؛ غوث اعظم دستگیر

کیا بیاں ہو شان تیری قم باذنی کہکے جب

تو نے مردوں کو جٍلایا غوث اعظم دستگیر

روح ہو جاتی ہے تازہ اور طبیعت باغ باغ

دیکھ کر روضہ تمہارا غوث اعظم دستگیر

چور وہ جو چوری کرنے آیا تھا اس کو ولی

تم نے اک پل میں بنایا غوث اعظم دستگیر

والدہ ہی کے شکم میں آپ نے رب کا کلام

کر لیا تھا حفظ آدھا غوث اعظم دستگیر

صدقہ اپنی آل کا دیدیجیے ساقی بہت

ہے غموں سے پارہ پارہ غوث اعظم دستگیر

غلام غوث ساقی تنویری

ترا اعلیٰ ہے سلسلہ غوث اعظم

ہے اونچا ترا مرتبہ غوث اعظم

بچائیں مجھے آقا شیطاں لعیں سے

ہے ان پر ترا دبدبہ غوث اعظم

نہیں مثل کوئی یہاں پر تو تیرا

یہ کہتا ہے ہر زمزمہ غوث اعظم

سخاوت کے چرچے ترے عام میراں

کھلا ہے ترا میکدہ غوث اعظم

نظرہو کرم کی یوں مجھ پربھی مرشد

کہ دیدیں مجھے حوصلہ غوث اعظم

ترے در پہ آئے یہ عاصی بھی ایسے

زباں پر بھی ہو شکریہ غوث اعظم

مٹا جائیں مجھ میں برا جو ہے میراں

وہ حارث کو دیں زاویہ غوثِ اعظم

محمد علی حارث

تری ہے ذات لاثانی محی الدین جیلانی

تری صورت ہے نورانی محی الدین جیلانی

تری سیرت ہے آئینہ شہنشاہِ دوعالم کی

ہے تم پر فضلِ رحمانی محی الدین جیلانی

ترے تشریف لانے سے شریعت ہو گئی زندہ

محی الدین جیلانی محی الدین جیلانی

رخ زیبا کواپنے خواب ہی میں مجھکو دکھلادو

کروں میں جان افشانی محی الدین جیلانی

اشارہ پا کے ہی سورج نکلتا ڈوبتا بھی ہے

ترا محبوبِ یزدانی محی الدین جیلانی

چمکتے ہیں ترے در کے گدا سب تاجور بن کر

عطا ہم کو ہو دربانی محی الدین جیلانی

نہ جانےکتنوں نےکلمہ پڑھایا اپنی مجلس میں

سجی محفل جب عرفانی محی الدین جیلانی

جھکائیں سر تری عظمت کے آگے اولیاء اللہ

ترا رتبہ ہے لا ثانی محی الدین جیلانی

ہمیشہ ورد کیجے نور اسمِ غوثِ اعظم کا

خوشی ہو غم پریشانی محی الدین جیلانی

نورالہدیٰ نور مصباحی

سرکار غوث پاک کے ہم تو اسیر ہیں

ان کے گدا ہیں ہم وہ امیرو کبیر ہیں

وابستہ جو بھی ان کی محبت سے ہوگیا

وہ تو رسول پاک کے سچے فقیر ہیں

ان سے مراد کیوں نہیں مانگے جناب من

وہ غوث زمانہ تو بڑے دستگیر ہیں

ابدال بنادیتے ہیں وہ نظر کرم سے

وہ مرشد برحق ہیں وہ پیروں کے ہیر ہیں

رب کی عطا سے دل کی وہ باتیں ہیں جانتے

محبوب خدا کے ہیں وہ روشن ضمیر ہیں

لےکر کے نام رب کا وہ مردوں کو زندگی

پل بھر میں عطا کرتے محمد کے بیر ہیں

امجد ہے غوث پاک کا سچا غلام جو

اس کے تو زیر سایہ غریب و امیر ہیں

غلام مصطفٰی امجد

غوثِ اعظم آپ کا مجھکو سہارا چاہیے

غوثِ اعظم مجھکو ہر غم سے کنارہ چاہیے

غوثِ اعظم ہر طرف دشمن کھڑے ہیں تاک میں

غوثِ اعظم مجھکو دشمن پارہ پارہ چاہیے

دل کے گوشے گوشے میں ہیں آپ ہی جلوہ نما

غوثِ اعظم آپ کا ہر سو نظارہ چاہیے

مجھکو دنیا کے امیروں سے نہیں ہے واسطہ

غوثِ اعظم کے ہی ٹکڑوں پہ گزارہ چاہیے

ہوں بہت بدکار میں لیکن گدا ہوں آپ کا

غوثِ اعظم بھیک مجھکو بھی خدارا چاہیے

قبر کی سختی ہو جب مجھکو بچانے کے لئے

غوث اعظم آپ کا اس دم اشارہ چاہیے

عرشی کو کیا خوف ہو جب قادری نسبت ملی

غوثِ اعظم حشر میں دامن تمہارا چاہیے

شفا قادری۔عرشی

گلشن بی فاطمہ ہیں غوث اعظم دستگیر

دلبرِ مشکل کشا ہیں غوث اعظم دستگیر

جیسے نبیوں میں جدا ہیں مصطفےٰ صلے علیٰ

ویسے ولیوں میں جدا ہیں غوث اعظم دستگیر

سنتے ہی فرمان قدمی سارے ولیوں نے کہا

تاج دارِ اولیاء ہیں غوث اعظم دستگیر

حشر کے میدان میں ہم کو بچا لینا شہا

آپ محبوب خدا ہیں غوث اعظم دستگیر

جس جگہ ہم نے پکارا آ گئے امداد کو

بالیقیں حاجت روا ہیں غوث اعظم دستگیر

اب کسی سے دل لگاؤں یہ تو ممکن ہی نہیں

جان و دل تجھ پر فدا ہیں غوث اعظم دستگیر

فضل مولیٰ اور نبی کے لطف سے میرا عظیم

روز محشر آسرا ہیں غوث اعظم دستگیر

عظیم اللہ رضوی

محمد مصطفی کا تو ہے مظہر غوث جیلانی

نہی دیکھا جہاں میں تیرا ہمسر غوث جیلانی

دلِ حسنین کی راحت قرارِ فاطمہ زہرا

علی مشکل کشا کے آپ دلبر غوث جیلانی

جسےچاہو ولایت دو، جسےبھی چاہو جنت دو

خدا نے دے دیا تم کو یہ پاور غوث جلانی

پریشاں حال ہوں آقا میری مشکل کشائی ہو

خدارا اک نظر ہو جائے مجھ پر غوث جیلانی

خدا نے اس قدر تیرے مراتب کو بڑھایا ہے

ہے چاروں سمت تیرا نام اشہر غوث جیلانی

تجھے اپنی قسم دے کر کھلاتا ہے پلاتا ہے

کیا ہے رب نے تیرا رتبہ برتر غوث جیلانی

یہی دل کی تمنا ہے مرے غوث الوری اپنا

دکھا دو سیف کو روضہ بلاکر غوث جیلانی

محمد سیف رضا قادری

ہوا تجھ سے راضی خدا غوث اعظم

ہے بالا ترا مرتبہ غوث اعظم

علی کے دلارے نبی کے ہو پیارے

ہو محبوب رب العلی غوث اعظم

تری دید تو دید ہے مصطفی کی

تو ہے سایہِ مصطفی غوث اعظم

ترے سر کی عظمت بھلا سمجھیں کیا ہم

قدم چومیں جب اولیا غوث اعظم

ترا ہوگیا جو خدا کا ہوا وہ

ہے ایسا ترا زاویہ غوث اعظم

بناتے ہیں عاقل کو پل بھر میں عاشق

چلاتے ہیں وہ میکدہ غوث اعظم

مرے قلب کو کر مجلی مصفی

تو ہے عکس بدرالدجی غوث اعظم

ہے شکر خدا قادری ہوں میں حیدر

میری ٹالتے ہیں بلا غوث اعظم

رمضان حیدر فردوسی

دھنی غوثِ اعظم سخی غوثِ اعظم

نہیں ہے مجھے کچھ کمی غوثِ اعظم

وہ مفلس ہوں یا ہوں غنی غوثِ اعظم

تمہارے بھکاری سبھی غوثِ اعظم

جو کی میں نے مدحت تِری غوثِ اعظم

مِری شان و عظمت بڑھی غوثِ اعظم

تمہی رونقِ بزمِ کُل اولیا ہو

تمہی سے یہ محفل سجی غوثِ اعظم

بیک وقت ستر گھروں میں نمایاں

رہی آپ کی حاضری غوثِ اعظم

قدم آپ کا گردنِ اولیاء پر

ہے عظمت بڑی آپ کی غوثِ اعظم

ستاتا نہیں مجھ کو سورج غموں کا

تِری چھاؤں ایسی گھنی غوثِ اعظم

نقوشِ قدم ہیں تِرے میرے رہبر

تِری راہ، راہِ نبی غوثِ اعظم

شفیقؔ آپ کی کرلے جتنی بھی مدحت

رہے گی مگر تشنگی غوثِ اعظم

شفیقؔ رائے پوری

ولیوں کے سردار غوث پاک کا

ہے کرم سرکار غوث پاک کا

فخر سے میں بھی کہونگا ایک دن

ہوگیا دیدار غوث پاک کا

گردنوں پر اولیاء اللہ کی

ہے قدم سرکار غوث پاک کا

جب تلاشِ پیر ہو اس پیر میں

دیکھنا کردار غوث پاک کا

آپ کی حسنی حسینی شان ہے

پنجتن گھربار غوث پاک کا

زیرِ سایہ آگئے سارے ولی

سج گیا دربار غوث پاک کا

ہم گناہگاروں کو دامن میں لیا

ہم پہ ہے اپکار غوث پاک کا

لا علی میری دوا بغداد سے

دل ہوا بیمار غوث پاک کا

پیر محمد علی نعیمی

مرے دل سے دنیا مٹا غوث اعظم

مجھے جامِ عرفاں پلا غوث اعظم

بدن میں رہے جب تلک روح باقی

“ہولب پر ترا نام یا غوث اعظم”

گناہوں کےدَل دَل میں ڈوبا ہوا ہوں

مجھے نیک انساں بنا غوث اعظم

مجھے تاج داری کی خواہش نہیں ہے

سگِ در تو اپنا بنا غوث اعظم

ہیں سب اولیا اُس بلندی پہ نازاں

تمھیں جو خدا نے دیا غوث اعظم

تمھارا قدم گردن ِ اولیا پر

ہے بےشک خداکی عطا غوث اعظم

یہ ظالم حکومت مظالم ہے ڈھاتی

اب اِس کا کرو خاتمہ غوث اعظم

جہاں پر، گداگر! ہیں سلطان بنتے

وہ چوکھٹ ہمیں بھی دکھاغوث اعظم

ہو! احساں پہ احسان اتنا، کہ کردے

سفر سوئے بغداد یا غوث اعظم

محمداحسان اللہ علیمی

یہی میرے لب پر صدا غوث اعظم

مجھے اپنا روضہ دکھا غوث اعظم

ترے اسم سے ہے ملی مجھکو راحت

کہ جب جب مدد کن کہا غوث اعظم

بلا کر مجھے اپنے روضہ پہ اک دن

کرو بھیک مجھکو عطا غوث اعظم

تمنا ہے دل میں کہ دیکھوں مدینہ

کہے آکے چل یہ ہوا غوث اعظم

کھڑا ہوگیا حکم پاتے ہی مردہ

ہوا جب اشارہ ترا غوث اعظم

بھلا اس کی قسمت کا کیا پوچھنا ہے

ملا جس کو دامن ترا غوث اعظم

الٰہی رہے قادری کا وظیفہ

علیمی کے لب پہ سدا غوث اعظم

عبدالکریم۔رضوی۔علیمی

مرے قلب کی ہے تسکیں ترا نام غوث اعظم

ترے دم سے ہی بناہے مرا کام غوث اعظم

تو علی کا لاڈلا ہے تو نبی کا ہے نواسہ

ترے صدقہ میں ملاہے مجھے جام غوث اعظم

کبھی یاوری کا صدقہ ترے در سے گر عطاء ہو

تو کہوں ملا ہے مجھ کو یہ انعام غوث اعظم

ہے گلے میں میرے پٹہ میں ہوں سنگ در کا کتا

مجھے بخش دو خدارا یہ دوام غوث اعظم

ترے در سے جو پھرا ہے وہ بھٹک رہا ہے در در

وہ ہے مبتلائے رنجش و جذام غوث اعظم

مرے غوث کا کرم ہے جو بنا لیا اپنا

اسی در سے ہی ملا ہے مجھے کام غوث اعظم

میں ھوں قادری بھکاری اور تو ہے عبد قادر

ترے گھر سے ہی ملا ہے یہ مقام غوث اعظم

یہ نظامی آستاں سے نہیں دور جانے والا

اسی در سے ہی بناہے مرا کام غوث اعظم

علی احمد نظامی

پرتوِ ذاتِ رسالت تاجدارِ اولیا

ہیں شہنشاہِ ولایت تاجدارِ اولیا

جب ملاٸک قبر میں آٸیں نظر تو آپ بھی

کیجٸے چشم عنایت تاجدارِ اولیا

قادریی نعرہ ہے اٹھا ساٸے میں افلاک کے

آگٸے روزِ قیامت تاجدارِ اولیا

دم میں لوٹے ہیں براتی، دیکھ کر دریا پہ یہ

محوِ حیرت ہے کرامت تاجدارِ اولیا

سب ولی تارے ولایت کے فلک پہ بالیقیں

تم ہو مہتابِ ولایت تاجدارِ اولیا

ہر ولی پاتے ولایت کی ضیا ہیں آپ سے

آپ ہیں شمعِ ولایت تاجدارِ اولیا

ہند سے قاسم کو بھی بغداد میں بلواٸیٸے

دیکھ لے بس حسنِ طلعت تاجدارِ اولیا

محمد قاسم

واقفِ سر خدا ہیں غوث اعظم دستگیر

نائبِ خیرالوریٰ ہیں غوث اعظم دستگیر

مرتبہ عالی نسب ہے مصطفیٰ کی آل ہیں

ابن ابنِ مرتضیٰ ہیں غوث اعظم دستگیر

اب تلک جتنے بھی ہیں جو ہونگے سارے آپ کے

زیر پا کل اولیاء ہیں غوث اعظم دستگیر

مثل رائی کے ہتھیلی پر جہاں کو دیکھنا

باکرامت پر ضیا ہیں غوث اعظم دستگیر

دیکھ کے صورت کو جن کی چور بن جائے ولی

جلوۂ حق رونما ہیں غوث اعظم دستگیر

اذن مل جائے ہمیں بھی حاضری کا ایک دن

ہم سراپا التجا ہیں غوث اعظم دستگیر

رنج و کلفت دور ہو انجم سے بیشک آپ تو

سیدی، مشکل کشا ہیں غوث اعظم دستگیر

شمس تبریز انجم

دستگیرِ دستگیراں غوث اعظم دستگیر

پیرِ پیراں میرِ میراں غوث اعظم دستگیر

جلوہِ شانِ حبیبِ مصطفی کو دیکھ کر

دنگ ہے مہر فروزاں غوث اعظم دستگیر

اٙوْلِیٙاءُ اُمِّتِیْ کی با خدا تصویر ہیں

مظہرِ محبوبِ یزداں غوث اعظم دستگیر

میری گردن میں رہے طوقِ غلامی حشر تک

آپکا اے ماہِ تاباں غوث اعظم دستگیر

مرکزِ اہلِ وفا ہے بارگاہِ قادری

مرجعِ ہر جن و انساں غوث اعظم دستگیر

اے شہنشاہِ جہاں اب لیجئے میری خبر

مشکلوں سے ہوں پریشاں غوث اعظم دستگیر

اے علی خاکِ کفِ پائے شہا پر ہے نثار

جان و دل ہوشِ تن و جاں غوث اعظم دستگیر

علی محمد الہ باد

آپ کے جلوؤں کا جب کر لوں گا درشن غوث پاک

اس گھڑی قربان کر دوں گا میں تن من غوث پاک

زندگی شاداب ہے میری جہاں میں اس لیے

تیری چاہت سے سجا ہے دل کا گلشن غوث پاک

آپ رگ رگ میں بسے ہیں ہم غلاموں کے شہا

کہہ رہی ہے یہ ہمارے دل کی دھڑکن غوث پاک

کاش پڑ جائیں قدم تیرے اسی امید میں

منتظر کب سے ہے میرے دل کا آنگن غوث پاک

المدد بہر خدا اب اس کو سلجھا دیجیے

دیکھ کر میں ہوں پریشاں اپنی الجھن غوث پاک

اس کی قسمت میں ہے جنت جو دوانہ ہے،مگر

آپ کا گستاخ ہے دوزخ کا اندھن غوث پاک

مرتبہ اعلیٰ ہوا اس کا تری دہلیز پر

جس کسی نے بھی جھکائی اپنی گردن غوث پاک

کر سکوں میں آپ کا دیدار جی بھر کے شہا

اک دفعہ اب تو ہٹا دیں رخ سے چلمن غوث پاک

آپ کے شیدا نظامی کی تمنا ہے یہی

قبر میں تشریف لائیں بعدِ مُردن غوث پاک

محمد امیر حمزہ نظامی

جان عالم کی عطا ہیں، غوث اعظم دستگیر

ہم سبھوں کے پیشوا ہیں، غوث اعظم دستگیر

پوچھتے کیا ہو کہ کیا ہیں، غوث اعظم دستگیر

شان محبوب خدا ہیں ،غوث اعظم دستگیر

چور کو بھی پل میں کر دیتے ہیں وہ ابدالِ وقت

صاحب جود و سخا ہیں، غوث اعظم دستگیر

آپ کی توصيف میں جو بھی لکھوں جو بھی کہوں

آپ ہیں اس سے سوا ہیں، غوث اعظم دستگیر

نجدیو تم در بدر بھٹکو، بھٹکتے ہی رہو

سنیوں کے آسرا ہیں، غوث اعظم دستگیر

رضوی ہوں یا اشرفی یا قادری، چشتی، سبھی

سب ترے در کے گدا ہیں، غوث اعظم دستگیر

کیجیے ہم سب مسلمانوں پہ چشمِ التفات

آپ ہی حاجت روا ہیں، غوث اعظم دستگیر

اہل سنت کا عقیدہ ہے یہی اے دوستو!

“تاجدار اولیاء ہیں، غوث اعظم دستگیر

اے اویس عنبؔر یہی کہہ کر تو اب خاموش ہو

مصطفیٰ کے معجزہ ہیں غوث اعظم دستگیر

اویس رضا عنبؔر

مصیبت سے ہم کو بچا غوث اعظم

سروں سے بلائیں ہٹا غوث اعظم

خدا کے ولی ہو نواسہ نبی کا

سدا مشکلوں سےبچا غوث اعظم

اشارے سے تیرے ہوا مردے زندہ

ذرا قلب مردہ جلا غوث اعظم

پتا کیا ہےکس کو ترا کیا ہے رتبہ

ولی تیرے در کا گدا غوث اعظم

طلب ہے فقط تیرے چشم کرم کی

نگاہ کرم اب اٹھا غوث اعظم

جو باغ علی ہے ہو پھول اسی کا

کلی میرےدل کی کھلاغوث اعظم

لئے کاسہ در پر کھڑا اجملی ہے

ہو ابن سخی کر عطا غوث اعظم

غلام غوث اجملی پورنوی

مئے عشق شہ بطحا پلاتے غوث اعظم ہیں

دلوں کو نور ایماں سے سجاتے غوث اعظم ہیں

کہ ان سے مانگتے جاتے ہیں ان سے مانگنے والے

کرم فضل و عنایت کرتے جاتے غوث اعظم ہیں

فقیروں سائلوں منگتوں سب انکے در پہ آجاؤ

کہ فیض و جود کے دریا بہاتے غوث اعظم ہیں

کہ جس بارات کو ڈوبے ہوئے بارہ برس گزرے

اسے اک آن میں پھر سے تراتے غوث اعظم ہیں

لگا کر پائے اقدس کی ضرب ہونٹوں سے کم کہ کر

خدا کے فضل سے مردے جلاتے غوث اعظم ہیں

بھنور میں پھنس کے جب بھی کوئی ان کا نام لیتا ہے

اسے پل بھر میں ساحل سے لگاتے غوث اعظم ہیں

ہے لیتی قید میں وحشت کبھی جب قادریوں کو

پیام لاتخف ان کو سناتے غوث اعظم ہیں

خزاں کو رنگ دیتے ہیں بہار نو کے رنگوں سے

کہ مرجھائی ہوئی کلیاں کھلاتے غوث اعظم ہیں

ہو پروؔانہ بھی انکا کاش اس فہرست میں شامل

جنہیں دربار میں اپنے بلاتے غوث اعظم ہیں

پروؔانہ برہانپوری

کیا سمجھ پائے کوئی کہ کیا غوث ہیں؟

سب کے فہم و ذکا سے ورا غوث ہیں

پیر کامل ، امامُ التّقا غوث ہیں

صوفی با صفا ، باخدا غوث ہیں

جتنے ہیں اولیا منفرد ہیں سبھی

لیکن ان سب میں سب سے جدا غوث ہیں

پاس آؤ نہ تم بھاگ جاؤ سنو!

مشکلو! میرے مشکل کشا غوث ہیں

ناز ہے جس پہ سنی مسلمان کو

وہ عطاے شہ دو سرا غوث ہیں

جو تراتے ہیں ڈوبی ہوئی ناؤ کو

فضل مولیٰ سے وہ ناخدا غوث ہیں

قطب و ابدال کا بھی عقیدہ ہے یہ

“فضل رب سے شہ اولیا غوث ہیں”

کیوں نہ سینہ مرا ہوگا پرنور ، جب

خانۂ دل میں جلوہ نما غوث ہیں

ذات ان کی ہے راحتؔ رسا مرحبا

درد مندوں کے دکھ کی دوا غوث ہیں

راحتؔ انجم

عشق نبی کا کوہ ہمالہ ہیں غوث پاک

انوار مصطفی کا اجالا ہیں غوث پاک

دنیائے سنیت کا ستارا ہیں غوث پاک

مولی علی کےآنکھ کا تاراہیں غوث پاک

ولیوں کو انکے صدقے ملی ہیں ولایتیں

کل اولیاءمیں افضل واعلی ہیں غوث پاک

رنج والم سے ہم کودلائیں گے وہ نجات

ٹوٹے ہوئے دلوں کا سھارا ہیں غوث پاک

نور خدا کا جلوہ ہے چہرے سے آشکار

بی فاطمہ کا راج دلارا ہیں غوث پاک

جن کےکرم سےچور بھی ہوجاتا ہےولی

فیضان مصطفی کا منارہ ہیں غوث پاک

رضوی کو کردوبھیک عطا اپنے نعل کی

لطف وکرم کا آپ نظارہ ہیں غوث پاک

عبدالاحد رضوی

آپکے قدموں پہ ہے قربان تن من غوث پاک

آپ کے دم سے ہے میری فکر روشن غوث پاک

کہہ رہے ہیں قادری اور نقشبندی ہر کوئی

“تیری چاہت سے سجا ہے دل کا گلشن غوث پاک”

صدق گوئی دیکھ کر تائب ہوئے رہزن سبھی

پیکر رشد و ھدی ہے تیرا بچپن غوث پاک

مصطفیٰ اور فاطمہ کے واسطے کر دو کرم

دور ہو جائے مری بھی ساری الجھن غوث پاک

جس کے صدقے پا رہے ہیں روشنی سب اولیاء

شہر جیلاں میں تمہارا ہے وہ مسکن غوث پاک

زلزلوں کا آندھیوں کا کوئی مجھکو ڈر نہیں

ہاتھ میں ہے آپکا جب نوری دامن غوث پاک

شکر ہے اللہ کا میں بن گیا ہوں قادری

اے خطیبی حشر میں میرے ہیں ضامن غوث پاک

سرفراز احمد تحسینی

میں اس لئے ہوں ہر جگہ مقبول غوث پاک

حب ہے ترا، خمیر میں مشمول غوث پاک

سرمہ اسے بناتے ہیں اللہ کے ولی

اڑتی ہے تیرے پاؤں سے جو دھول غوث پاک

جس نے تری غلامی کا پٹہ پہن لیا

فضل خدا سے وہ ہوا مفضول غوث پاک

ہم تو اسے سمجھتے ہیں اللہ کا ولی

جو ہے تمہارے ذکر میں مشغول غوث پاک

اہل سنن کے واسطے ہے معتبر بہت

جو بات بھی ہے آپ سے منقول غوث پاک

عرش بریں پہ کرتے ہیں قدسی بھی تذکرہ

مولی علی کے باغ کے ہیں پھول غوث پاک

پختہ یقین ہے کہ دلاتے ہیں آپ ہی

شارق کو جو بھی ہوتا ہے موصول غوث پاک

سید شارق رضا خالدی

جب سے لکھا ہے در پہ ترا نام غوثِ پاک

تب سے مصیبتیں ہوئیں ناکام غوثِ پاک

مجھ سے ہوئی ہیں دور مری مشکلیں سبھی

جب بھی زباں پہ آیا ترا نام غوثِ پاک

دنیا کی انجمن میں ہوں پھنستا چلا گیا

کیا میں کروں ملے مجھے آرام غوثِ پاک

پکڑا ہے جس نے آپ کا دامن بصدخلوص

ہوگا نہ وہ جہان سے گمنام غوثِ پاک

جب سے چلا ہوں آپ کے نقشِ قدم پہ میں

رب نے کیا ہے مجھ پہ بھی انعام غوثِ پاک

دنیا کے گوشہ گوشہ سے آتی ہے یہ صدا

بن جائے میرا بگڑا ہوا کام غوث پاک

شیدائیوں کے دل کی تمنا یہی ہے سعد

گزریں تمہارے در پہ مری شام غوثِ پاک

محمد رضا عالم سعد

ولایت میں ہے عالی شان رتبہ غوث اعظم کا

عقیدت مند کو ملتا ہے صدقہ غوث اعظم کا

کوئی انسان کیا سمجھے حقیقت شاہِ جیلاں کی

فلک والوں میں بھی ہے خوب چرچا غوث اعظم کا

ملی ہے روشنی ان سے بہت سے نور سینوں کو

اندھیرے دل پہ جب چمکا ہے ذرہ غوث اعظم کا

مدد کو آ گئے فوراً وہیں بغداد کے دولھا

پکارا دل سے جب بھی کوئی شیدا غوث اعظم کا

قسم اللہ کی جھک جائے دنیا اس کے قدموں میں

اگر ہو جس پہ اک ادنیٰ اشارہ غوث اعظم کا

منور ہو گئی ہے زندگی اور شاد ہے نَؔیَّر

مجدد کی دعا ہے اور سایہ غوث اعظم کا

نَؔیَّر جونپوری

حق پرستوں کے نوری نشاں غوث ہیں

دین کی جان اور جان جاں غوث ہیں

ان کی سیرت بتاتی ہے ہم کو یہی

عشق کی اک حسیں داستاں غوث ہیں

کہہ کےقم کتنے مردوں کو زندہ کیا

باکرامت بعید از گماں غوث ہیں

عمر بھر لاتخف آپ کہتے رہے

ہم مریدان پر مہرباں غوث ہیں

آپ کاوعظ حیران کن ہے سدا

سچ یہی ہے کہ شیریں زباں غوث ہیں

قطب اقطاب و شیخ شیوخ زماں

محیء دین متیں بے گماں غوث ہیں

جن سے ملتی ہے عینی سبیل اماں

بے کسوں کے وہ راحت رساں غوث ہیں

سید خادم رسول عینی

مرحبا آل خیرالورٰی غوث ہیں

فضل رب سے شہ اولیاء غوث ہیں

اپنے پاؤں کی ٹھوکرسےاک آن میں

جس نے مردےکو زندہ کیا غوث ہیں

ایک ہی وقت میں دیکھو ستر کے گھر

فضل مولٰی سے جلوہ نما غوث ہیں

قادری سلسلہ مل گیا ہے مجھے

شکرہے رب کا مرشد پیاغوث ہیں

غیر کے سامنے ہاتھ پھیلائیں کیوں

جب میرے مونس و آسرا غوث ہیں

روزمحشر کا کچھ غم نہیں ہے مجھے

میرے سینے میں مشکل کشا غوث ہیں

اولیاء ملتے آنکھیں ہیں زیر قدم

شاہ بطحا کی نوری ادا غوث ہیں

دل سےتم بھی پکارو اے اشعر انہیں

کیونکہ ہر درد و غم کی دوا غوث ہیں

اشعر نورانی

ولایت کے بدر الھدی غوث اعظم

کرامت کے شمس الضحیٰ غوث اعظم

حسین و حسن ہیں تیرے جدِّ امجد

تو ہے ابن مشکل کشا غوث اعظم

مریدوں پہ دست حمایت ہے تیرا

کہ ہے لَا تَخَف کی صدا غوث اعظم

سبھی تیرے تابع ہیں رب کی عطا سے

یہ جنّ و بشر یہ صبا غوث اعظم

بنی گردنِ اولیاء تیرا منبر

حکومت ہے تیری سدا غوث اعظم

کروں کیوں کسی سے بیاں اپنی حاجت

کہ ہیں میرے حاجت روا غوث اعظم

اٹھے رخ سے پردہ وہ صورت پیاری

دکھا غوث اعظم دکھا غوث اعظم

دلِ انس و جن پہ حکومت ہے تیری

مرے مردہ دل کو جلا غوث اعظم

نزع میں مصائب سے مجھ کو بچانا

خدا کی ہے تجھ پہ عطا غوث اعظم

عدو سے اماں میں ہے دارمؔ تمہارا

ہوا جب سے تیرا گدا غوث اعظم

وقار حبیب دارمؔ

حبیبِ حبیبِ خدا غوث اعظم

شہنشاہِ کل اولیا غوث اعظم

پلا جامِ الفت، پلا غوث اعظم

بجھا پیاس دل کی، بجھا غوث اعظم

یہی ہے مرا مدعا غوث اعظم

پلا شربتِ دید یاغوث اعظم

خدانے وہ رتبہ دیا غوث اعظم

نہیں کوئی تجھ سا ہوا غوث اعظم

جو رتبہ تجھے مل گیا غوث اعظم

نہیں اور کسی کو ملا غوث اعظم

جو دل سے ہوا آپ کا غوث اعظم

یقینا وہ رب کا ہوا غوث اعظم

پھنسا ہوں گناہوں کی دلدل میں آقا

بچا غوث اعظم، بچاغوث اعظم

مرے خالی کاسہ کو بھردو خدارا

میں منگتا تمہارا ہوں یاغوث اعظم

قمر کو بلالیجیے در پہ اپنے

شہاغوث اعظم، شہا غوث اعظم

محمدقمرالزماں قادری امجدی

رضائے حبیب خدا غوث اعظم

قرار دل فاطمہ غوث اعظم

مجھے جلوۂ پر ضیا غوث اعظم

دکھا، رشک جنت بنا غوث اعظم

تجھے حق تعالی نے افضل کیا ہے

تو سب اولیاء میں بڑا غوث اعظم

پریشاں ہیں جبر و ستم سے مسلماں

مدد کیجے بہر خدا غوث اعظم

یگانہ تری ذات ہے اولیاء میں

عطاء رسول خدا غوث اعظم

تلاطم میں کشتی ہماری پھنسی ہے

کنارہ اسے کر عطا غوث اعظم

تمام اولیاء کرتے صد ناز و صد شوق

ہیں گردن ترے زیر پا غوث اعظم

یہی بارگاہ خدا میں دعا ہے

“مرے لب پہ ہردم ہو یا غوث اعظم “

بجز تیرے آصف کا کوئی نہیں ہے

گل گلشن مرتضیٰ غوث اعظم

محمد آصف رضا نوری منظری

دل مرا تم پر فدا یا غوث اعظم دستگیر

آپ ہیں رب کی عطا یا غوث اعظم دستگیر

ہر ولی و پیر کو اور ہر قطب ابدال کو

فیض تم سے ہی ملا یا غوث اعظم دستگیر

سب ادب کرتے ہیں تیرا قبل ہوں یا بعد ہوں

دلبر کل اولیاء یا غوث اعظم دستگیر

لے لیا میں نے وسیلہ آپ کا وقت دعا

بخش ہی دے گا خدا یا غوث اعظم دستگیر

ورد اسم پاک کا جس نے جہاں سے بھی کیا

مل گئی اس کو شفا یا غوث اعظم دستگیر

بھاگی ہوں ہر اک بلا ہاں دم دبا کر باخدا

میں نے بس اتنا کہا یا غوث اعظم دستگیر

بحر عصیاں میں مری کشتی پھسی ہے ناخدا

آپ لو مجھ کو بچا یا غوث اعظم دستگیر

تم سے نسبت ہے مری اور میں پریشاں ہوں یہاں

سب کہینگے کیا بھلا یا غوث اعظم دستگیر

پیر پیراں اک نظر ایسی کرو ارشاد پر

پوری ہو اک اک دعا یا غوث اعظم دستگیر

محمد ارشادالحق قادری

ہم دکھیوں کے سہارا بغداد والے آقا

کر دو کرم خدارا بغداد والے آقا

نام آپ ہی کا لیکر ہر سنی جی رہا ہے

تم سب کے ہو سہارا بغداد والے آقا

بارہ برس کی ڈوبی کشتی نکالی تم نے

بُڑھیا نے جب پکارا بغداد والے آقا

کہیں ہو نہ جائیں رسوا اعمال جب کھلیں تو

رکھنا بھرم ہمارا بغداد والے آقا

جتنی تھیں مشکلیں سب آسان ہوگئی ہیں

جب بھی تمہیں پکارا بغداد والے آقا

نبیوں میں جیسے وہ ہیں ولیوں میں ویسے تم ہو

یہ مرتبہ تمہارا بغداد والے آقا

بیتاب ہے شرافت دیدار کو تمہارے

کروا دو اب نظارہ بغداد والے آقا

شرافت حسین رضوی

جلوۂ حسن محمد کی وہ روشن قندیل

بزم کونین میں ممکن نہیں جس کی تمثیل

غوث اعظم جسے کہتا ہےزمانہ سارا

ہاں وہی، بزم ولایت کی کرے جو تکمیل

کعبہ عشق کی جانب ہہ ازل سے سر خم

غیر ممکن،ہو مرے قبلہ دل کی تحویل

دفعتاً دیکھ کے اعجاز مسیحائی ترا

لب پے عیسیٰ کے ہوئی جاری دعائے انجیل

تیرے کاندھوں پہ رکھا، ایسے پیمبر نے قدم

جس کے دربار کے خادم ہیں جناب جبریل

جد امجد ہے وہ ! پیغمبرِ اول تیرا

ٹھوک دے کفر کے تابوت میں جو آخری کیل

ڈھال کر حرف کے سانچے میں، تو ! معنی پرویز

اک نئی منقبت پاک کو اب دے تشکیل

پرویز احمدآبادی

کرم کی ہو نظر مجھ پہ خدارا شاہ جیلانی

تمہارا ہوں تمہارا ہوں تمہارا شاہ جیلانی

جو دریا میں تھی بارہ سال سے ڈوبی ہوئی کشتی

لگایا اس کو بھی تم نے کنارا شاہ جیلانی

مشائخ ہو قطب ہو ہو وہ چاہیں کوئی بھی والله

قدم ہے سب کی گردن پر تمہارا شاہ جیلانی

محبّت ہے مجھے اتنی کی سر کے بل چلے آؤں

جو ہو جائے ترے در سے اشارہ شاہ جیلانی

مصیبت ٹل گئی فوراً ملا دل کو سکوں میرے

لگایا جب کبھی مشکل میں نعرہ شاہ جیلانی

جسے بھی ہو گیی نسبت ترے در سے مرے مرشد

نہ جاےگا کہیں پھر وہ دو بارہ شاہ جیلانی

اغثنی المدد کہہ کے پکارا جب کبھی تم کو

چلا پھر نجدیوں کے دل پہ آرا شاہ جیلانی

مخالف ہے تمہارا جو کوئی بھی اب جہاں بھر میں

پھرےگا در بدر وہ مارا مارا شاہ جیلانی

خدارا انتخاب واحدی کو خواب میں آکر

کرا دو تم کبھی اپنا نظارہ شاہ جیلانی

انتخاب واحدى -ارحم جعفرپوری

خدا کی کشتِ الفت ہے محبت غوثِ اعظم کی

نبی کے عشق کی صور ت ہے بیعت غوث اعظم کی

خدا سے حبّ میراں کی نہایت مانگئیے یارو

ارے انمول نعمت ہے عقیدت غوث اعظم کی

مریدی لاتخف کی ھے سند انکے غلاموں کو

مسلّم دوجہاں میں ہے سیادت غوث اعظم کی

مریدوں کی ستر پوشی کرے مشرق تا مغرب جو

جہاں بھر میں انوکھی ہے حمیّت غوث اعظم کی

بلاد اللہ مثلِ رائ جو دیکھے ہتھیلی پر

وہ حیرت خیز حق بِیں ہے فراست غوث اعظم کی

ہمیشہ دستگیری کی پکارا جب کبھی میں نے

ارے فاصل شِکن دیکھی سماعت غوث اعظم کی

وہی رشک ولایت ہے وہی فخر کرامت ھے

میسر جس کو ہوجاے عنایت غوث اعظم کی

بہ پیشِ شافع محشر، خدایا ہو رہے میری

غلامی پر سرِ محشر شہادت غوث اعظم کی

مناقب غوثِ اعظم کے سنا کر ماں نے پالا ہے

مری گھٹّی میں شامل ہے ارادت غوث اعظم کی

ہمارے فن میں بھی غوث الوریٰ کی نسبتیں مہکِیں

بریلی سے جو پائ ہے یہ نکہت غوث اعظم کی

عدیم انکے گداؤں میں مجھے بھی لوگ گنتے ہیں

بڑی توقیر افزاء ہے محبت غوثِ اعظم کی

عباس عدیم قریشی

مظہرِ رشدو ہدایت غوث اعظم دستگیر

رہبرِ راہِ طریقت غوث اعظم دستگیر

آپ کے در سے ہی پائیں فیض سب عرفان کا

آپ سے سیکھیں شریعت غوث اعظم دستگیر

بے شبہ نارِ جہنم اس کو چھو سکتی نہیں

آپ سے جس کو ہے نسبت غوث اعظم دستگیر

اولیاء سارے ہوئے خم آپ ہی کے سامنے

ہیں شہنشاہِ ولایت غوث اعظم دستگیر

آپ کے صدقے میں جھک سکتے نہیں ہرگز کہیں

آپ ہیں ہم سب کی طاقت غوث اعظم دستگیر

دستگیری کیجئے اس کی سوئے منزل اب آپ

آج مشکل میں ہے ملت غوث اعظم دستگیر

آپ کے دیدار سے میری بھی تو بگڑی بنے

بخشئے مجھ کو زیارت غوث اعظم دستگیر

آپ کے در پر ہو حاضر یہ ریاضِ قادری

کیجئے اس پر عنایت غوث اعظم دستگیر

پروفیسر ریاض احمد قادری

ہے تمام اولیا کا، تُو امام غوثِ اعظم

تِری غوثیت کو حاصل ہے دوام غوثِ اعظم

تِری ذات سے ہے جس کو، دِل و جان سے عقیدت

نہ بگڑ سکے گا اس کا، کوئی کام غوثِ اعظم

تُو نبی کا لاڈلا ہے، تُو علی کا ہے دُلارا

“تِری ذات پر بزُرگی ہے تمام غوثِ اعظم”

تِرے ذِکر سے ہے تاباں، مِری صُبح پِیرِ پِیراں

تِری فِکر سے حسیں ہے، مِری شام غوثِ اعظم

کوئی فخرِ زاہداں ہے، کوئی مِیرِ عارفاں ہے

تِرا فیض یُوں غُلاموں پہ ہے عام غوثِ اعظم

تِرے بعد ہو سکے گا نہ کسی ولی کو حاصل

ہے خُدا نے تُجھ کو بخشا جو مقام غوثِ اعظم

میں گدائے بے نوا ہُوں، مِری حیثیت ہی کیا ہے

تِرے نام سے ہے روشن، مِرا نام غوثِ اعظم

تِرے عارفِ حزیں پر، ہو بڑی تِری عنایت

تُو اگر قبول کر لے، یہ سلام غوثِ اعظم

مُحمد عارف قادری

خوشہ چِیں جس کی ہر بزمِ ارشاد ہے، شیخِ بغداد ہے

جس کے دم سے نظر کشف آباد ہے، شیخ بغداد ہے

جو طریقت میں ولیوں کا استاد ہے، شیخِ بغداد ہے

اولیا کا جہاں جس سے آباد ہے، شیخِ بغداد ہے

سر جھکاۓ کھڑے ہیں سبھی صف بہ صف، ہو کے کاسہ بکف

نام جس کا سند بہرِ امداد ہے ، شیخِ بغداد ہے

بڑھ کے ہر ایک امّت کی تعداد سے، حرفِ میعاد سے

جس کی بیعت میں اعزازِ افراد ہے، شیخِ بغداد ہے

ہر فضلیت ملی ہے خدا سے عجب،مصطفی کے سبب

جس کا شیدا جہنم سے آزاد ہے، شیخِ بغداد ہے

سیّد الاولیا سے جو رکھّے حسد، روئے گا تا ابد

جس کا مُبْغِضْ زمانے میں برباد ہے، شیخِ بغداد ہے

نمرہ گل خان

خدا کے نور کا سایہ حضور غوثِ پاک

سیاہ شب میں ہدایت کا نور غوثِ پاک

تمہارے ذکر و تصور سے خوب ملتا ہے

نظر کو نور، جگر کو سُرور غوثِ پاک

بُلا بھی لیجئے بغداد میں شہِ جیلاں

غمِ فراق میں بیٹھا ھوں دور غوثِ پاک

ہے شاعری کی تمنا نہ داد کی خواہش

ادب کا دیجئے مجھ کو شعور غوثِ پاک

تمہارے در کی گدائی شہنشہی ہے شہا

تمہاری ذات ہمارا غُرور غوثِ پاک

تجلی ڈالئے نورِ خدا کے نور اس پر

جلے یہ دل بھی مرا مثلِ طور غوثِ پاک

تمہاری جوت سے چاروں طرف اجالا ھے

چراغِ شافعِ یوم النشور غوثِ پاک

جو ہو غلامی کا پٹہ ہماری گردن میں

تو بخشوائیں گے ہم کو ضرور غوثِ پاک

نبی کے دین کو زندہ کیا خدا کی قسم

محیِّ دین ہیں میرے حضور غوثِ پاک

اے کاش کوکبِ جیلانی گردِ راہ بنے

قدم قدم پہ کریں پھر عبور غوثِ پاک

سید کوکب الجیلانی

بڑھ رہی ہے دن بدن اس دل کی الجھن غوث پاک

ہجر میں ڈر ہے کہ رک جا نہ دھڑکن غوث پاک

تیری چوکھٹ کی بہارن رخ پہ ملنے کیلئے

حسرتیں کب سے بنی بیٹھی ہیں دلہن، غوث پاک

جاں مری بیتاب ہے چوکھٹ پہ سجدہ کیلئے

مفلسی روکے ہے رستہ بن کے سوتن، غوث پاک

آپ کے عشاق کی ہے منتظر خلدِ بریں

آپ کے گستاخ ہیں دوزخ کا ایندھن، غوث پاک

ایک بیوہ کی طرح در در بھٹکتی ہے یہ روح

در پہ بلوا کر اسے کر دو سہاگن، غوث پاک

بابِ فردوسِ بریں ہے تیری دہلیزِ کرم

باغِ فردوسِ بریں ہے تیرا آنگن غوث پاک

ہر گھڑی بارش جھماجھم ہو رہی ہے نور کی

تیرے آنے سے ہوا بغداد مدُھوٙن، غوث پاک

کام سورج کا کریگا وہ اندھیری قبر میں

جو تمہاری یاد سے ہے قلب روشن غوث پاک

ہے ترے جاوید کے حق میں وہی آب حیات

کاش مل جاۓ ترے قدموں کا دھوون غوث پاک

جاوید صدیقی گونڈوی

رضائے حبیب خدا غوث اعظم

جگر پارۂ مرتضیٰ غوث اعظم

منور ترے دست و پا غوث اعظم

کرامت کے پیکر ہیں یا غوث اعظم

عطائے شہ دوسرا غوث اعظم

مرے رہبر و رہنما غوث اعظم

گلستان حسنین کے دلنشیں گل

سکون دل فاطمہ غوث اعظم

امام رسل ہیں ترے جد اعلیٰ

تو ہے سرور اولیاء غوث اعظم

ولایت کا سہرا سجا ان کے سر پر

کرم جن پہ تیرا ہوا غوث اعظم

بفضل خداوند قدوس فوراً

جو چاہا ہے تم نے ہوا غوث اعظم

جلائے ہیں پہلے بھی ٹھوکر سے مردے

مرے مردہ دل کو جلا غوث اعظم

تو تقدیر سب کی بناتا ہے پل میں

مرا بھی نصیبہ جگا غوث اعظم

مرے دل کا گلزار مرجھا رہا ہے

کرم سے کرو خوشنما غوث اعظم

بلاؤں نے گھیرا ہےچاروں طرف سے

بچا غوث اعظم بچا غوث اعظم

محب کو نہیں روز محشر کا کھٹکا

ملا جب سے دامن ترا غوث اعظم

نفیس اکرم محب رضوی اویسی

اولیا میں سب سے افضل شاہِ جیلاں آپ ہیں

علم سےلبریز بادل شاہِ جیلاں آپ ہیں

آپ کی خوشبو سے مہکے ہیں سبھی دیوارو در

برسرِ دہلیز صندل شاہِ جیلاں آپ ہیں

چین آتا ہی نہیں اب رات دن مجبور کو

جن کی خاطر دل ہے بے کل شاہِ جیلاں آپ ہیں

یہ کرامت کس کی ہے پھیلے ہوئے ہیں آج بھی

التفاتِ دشت و جنگل شاہِ جیلاں آپ ہیں

طاقِ دل پر اک عقیدہ آج بھی کہتا ہے

جو رہے مجھ میں مسلسل شاہِ جیلاں آپ ہیں

میں مناقب آپ کے کہتا بھی ہوں سنتا بھی ہوں

سوچتا ہوں جن کو ہر پل شاہِ جیلاں آپ ہیں

ان کی میں شانِ ولا اب کیا لکھوں جس کو ملے

التفات و فیض و مرسل شاہِ جیلاں آپ ہیں

بارشِ عرفان مانگی تھی محمدشاہ نے

کر دیا جس نے ہے جل تھل شاہِ جیلاں آپ ہیں

پیر سید محمدشاہ ہمدانی

فداے رسالت مرے غوث ہیں

نشانِ ولایت مرے غوث ہیں

سراپا محبت مرے غوث ہیں

نگاہِ عنایت مرے غوث ہیں

جو اسلام پر وقت آئے کبھی

پے استقامت مرے غوث ہیں

کوئی دکھ کا مارا جو آواز دے

پے استعانت مرے غوث ہیں

ولی جتنے تھے سب کی گردن جھکی

کہ شاہِ ولایت مرے غوث ہیں

ہر اک کی مدد کی ہر اک حال میں

سراپا سخاوت مرے غوث ہیں

نظر آتی ہے مجھ کو راہِ خدا

کہ میری بصارت مرے غوث ہیں

نہ بھٹکوں کبھی زیست کی راہ میں

کہ شمعِ ہدایت مرے غوث ہیں

مشاہد نہ غم کر کسی بات کا

کہ جب حق کی نصرت مرے غوث ہیں

محمد حسین مشاہد رضوی

بات جو بنتی نہ تھی وہ ہے بنائی غوث نے

میل عصیاں کی مِرے دل سے مِٹائی غوث نے

مُرسلِ اعظم رسولوں میں ہیں جیسے مصطفٰی

اولیا میں اِس طرح یکتائی پائی غوث نے

سیّدِ ہُجویر کے در کا دکھایا راستہ

اِس طرح فرمائی میری رہنمائی غوث نے

میرے جد کو بھی نوازا، مُجھ پہ بھی ہیں مہرباں

چشمِ رحمت کی ہے یوں اے میرے بھائی، غوث نے

پھر مشامِ جاں سے میری رُوح میں اُتری مہک

خوشبووں سے قلب کی وادی بسائی غوث نے

اُجلا اُجلا کیوں نہ ہو میرا جہانِ فکر و فن

قریۂ ادراک میں شمع جلائی غوث نے

مستئ عشقِ نبی سے ہو گیا سرشار دل

قادریت کی مجھے وہ مے پلائی غوث نے

چور آیا تھا جو، وہ ہو کر قُطب رُخصت ہُوا

جس کو چاہا اُس کو بخشی اولیائی غوث نے

بندگانِ ربِ اکبر ہو گئے مخمور وہ

اک نظر جن سے محبت کی ملائی غوث نے

عرش و فرش، ارض و سما گویا یہ ساری کائنات

اک ہتھیلی پر دکھائی مثلِ رائی غوث نے

مجھ کو بھی کہتی ہے دنیا غوثِ اعظم کا گدا

حسنئ مفلس کی بھی عزّت بڑھائی غوث نے

سید محمد حسنین الثقلین

غلامی سید بغداد کی جس نے بھی پائی ہے

شہ کونین کی دہلیز تک اس کی رسائی ہے

علی کے لعل ہیں اور فاطمہ کی آنکھ کے تارے

وجود غوث اعظم عکس ذات مصطفائی ہے

سہارا بے سہاروں کا وہ آخر کیوں نہ بن جائیں

ملی غوث الوری کو اِرث میں مشکل کشائی ہے

کہا جس وقت قدمی ہذہ سرکار جیلاں نے

ہزاروں گردنیں خم تھیں یہی غوث الورائی ہے

مریدی لا تخف اللہ ربی کی بشارت دی

مرے جیسے ہزاروں مجرموں کی تو بن آئی ہے

فقط ہم تم نہیں غوث الوریٰ کے آستانے پر

عقیدت کی جبیں اللہ والوں نے جھکائی ہے

صداقت ہو، عدالت ہو، سخاوت ہو، شجاعت ہو

صفت اصحاب پیغمبر کی ہم نے ان میں پائی ہے

شرافت ہو، نجابت ہو، سیادت ہو، کرامت ہو

کوئی عظمت ہو لوگوں تک انہیں کے گھر سے آئی ہے

نہیں ممکن کہ ہٹ جائے کبھی وہ جادۂ حق سے

شہ جیلاں کی جس انساں کو حاصل رہنمائی ہے

گھڑی ہے سخت مشکل کی، مدد کو آئیے آقا

دہائی ہے دہائی ہے شہ جیلاں دہائی ہے

عجب کیا نورؔ پر بھی بارش الطاف ہو جائے

شہ بغداد نے بگڑی ہزاروں کی بنائی ہے

سید نورالحسن نور نوابی عزیزی

دلبرِ کُل اَولیا، یا غَوثِ اَعظم دستگیر

قَلب و جاں کے بادشَہ، یا غَوثِ اَعظم دستگیر

آپ کے سارے غلاموں پر ہیں رب کی رحمتیں

کیا ملاہے مرتبہ، یا غوثِ اعظم دستگیر

آپ کی چشمِ کرم سے دُور ہیں رنج والم

غم دلوں سے مٹ گیا، یا غوثِ اعظم دستگیر

ہے محئ الدیں لقب تیرا جو خالق نے دیا

دین کا احیا کیا، یاغوثِ اعظم دستگیر

ہیں ترےفیضان، مہر ولطف سے محروم جو

وہ ہیں سارے اشقیا، یا غوثِ اعظم دستگیر

لوح پر لکھا بھی مٹ جائے تصرف سے ترے

ہیں عطا کی انتہا یاغوثِ اعظم دستگیر

اولیا کی بزم ہے آقا تمہی سے پُر ضیا

زینتِ بَزمِ ہُدٰا، یا غوثِ اعظم دستگیر

المدد اے شاہِ جیلاں، پیرِ پیراں المدد

تاجدارِ اولیا، یا غوثِ اعظم دستگیر

راہ زن کوبھی ولایت سےکیا ہے سرفراز

اے حبیبِ مصطفٰے، یا غوثِ اعظم دستگیر

آپکی ایک اک کرامت کا نہیں کوئی جواب

حق ترا ہے ہمنوا، یاغوثِ اعظم دستگیر

وعظ کی تاثیر سے زینب ہوئے بالواسطہ

قلب وجاں، آراستہ، یا غوثِ اعظم دستگیر

سیدہ زینب سروری