شجر کا نہ حجر کا نہ مہ و خورشید و اختر کامیں بندہ ہوں پجاری ہوں بس اک اللہ اکبر کا
نبی پاک کے ہاتھوں سے پی کر جام کوثر کاہمیں بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
ہمیں بھی کاش مل جاتا مقدر ایسے پتھر کاوہ پتھر جس میں اترا نقش تیرے پائے اطہر کا
غلام مصطفیٰ ہو کر سکندر ہوں مقدر کاسکندر کب ہوا محتاج دنیا میں کسی در کا
دوعالم پر حکومت ہے مگر جو پر قنات ہےہے انداز جہانبانی انوکھا میرے سرور کا
حسینوں میں بہت دیکھا مگر تم سا نہیں دیکھانمونہ بھی نہیں ملتا تمہارے روئے انور کا
نکما بد عمل ہوں اس لئے کچھ کہہ نہیں سکتا!سمجھ لیں آپ ہی مفہوم میرے دیدۂ تر کا
ترے در سے ترے دشمن بھی خالی ہاتھ نہ لوٹےمری بھی لاج رکھ لینا کہ منگتا ہوں ترے در کا
سلام عاجزی جب میں کروں گا اُن کو تربت میںفرشتے بوسہ لیں گے میرے لب کا اور مرے سر کا
حیات ظاہری میں ساتھ حیات باطنی میں ساتھمقدر تو کوئی دیکھے عمر صدیق اکبر کا
نہ الجھو اے جہاں والوں ہماری سر پہ سایا ہےرضا کا غوث کا حسنین کا عثمان و حیدر کا
غلامِ مصطفیٰ ہوں میں مریدِ مصطفیٰ ہوں میں
کرم بے پایاں ہے مجھ پر حبیبِ ربِ اکبر کا
یہ جرأت اور بے باکی رضا کے فیض سے پائیٹھکانا ہی نہیں دل میں ہمارے خوف اور ڈر کا
حسینان جہاں کا کیا بھروسہ کب نظر پھیریںکسی کو کوئی اندازہ ہوا کب ان کے تیور کا
یہ ریحؔان دین و سنت کے مہکے ہیں جدھر دیکھونوازش ہے رضا کی اور احساں ان کے منظر کا