Skip to main content
نعت

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

By September 8, 2021No Comments

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

امنگ شوق کی اٹھتی ہے قلب مردہ سے

نہ بات مجھ سے گلِ خلد کی کر اے زاہد

کہ میرا دل ہے نگار خارِ طیبہ سے

یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد

بہارِ خلد بریں ہے بہارِ طیبہ سے

یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی

مہ و نجوم ہیں روشن منارِ طیبہ سے

فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے

ہزار جلوے نمایاں حجابِ آقا سے

جو ہیں مریضِ محبت یہاں چلے آئیں

صدا یہ آتی ہے سن لو مزارِ مولیٰ سے

کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً

کبھی جو ہم نے پکارا میانِ دریا سے

نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا

کنارا کیوں نہیں کرتا تو اہل دنیا سے

پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ

الٰہی اس کو بچالینا طعنِ اعداء سے