Skip to main content

سارے انسانوں کی پہچان ہے چہرہ تیرا ﷺ
ہر حوالے سے ضروری ہے حوالہ تیراﷺ

تیرےﷺ قدمَین کا دھوون ہے جمالِ ہستی
مَیں بیاں کیسے کروں حسنِ سراپا تیرا ﷺ

مجھ کو بھی رزقِ ثنا، اذنِ شفا، بالِ ہما
تیرا ﷺ در چھوڑ کے جائے کہاں منگتا تیرا ﷺ

مَیں نے قرآن پڑھا، تیرے ﷺ محاسن دیکھے
ہر صحیفہ ہے حقیقت میں قصیدہ تیرا ﷺ

ختم ہونا تھا نبوت کا یہ منصب تجھ پر
ہر زمانہ، مرے آقا ﷺ ہے زمانہ تیرا ﷺ

لازمی ہے چلیں احکامِ شریعت پہ مگر
مغفرت کے لیے کافی ہے وسیلہ تیرا ﷺ

لاکھ خِلْعت ہے تری ﷺ ایک غلامی پہ نثار
میری زنجیر کا ہر ایک ہے حلقہ تیراﷺ

آج بھی پھول کھلے شاخِ برہنہ پہ بہت
آج بھی ابرِ کرم ٹوٹ کے برسا تیرا ﷺ

اِک تَسلسُل سے نبی ﷺ آتے رہے دنیا میں
تا کہ ہر دور میں ہوتا رہے چرچا تیراﷺ

گنبدِ سبز کو ڈھونڈے ہے سرِ حشر، ریاضؔ
مرکزِ عشق وہی ایک مدینہ تیرا ﷺ

ریاض حسین چودھری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ